سویڈن نے ایران میں اپنے شہری کو دی جانے والی سزائے موت کے خلاف ایرانی سفیر کو احتجاجی مراسلے کے لیے اس ہفتے وزارت خارجہ طلب کیا۔ یہ بات سکینڈے نیوین ملک کی وزیر خارجہ نے جمعہ کے روز بتائی ہے۔
ایرانی عدلیہ نے منگل کے روز دوہری شہریت رکھنے والے ایک شہری کو جاسوسی کا الزام ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی ہے۔
اس سویڈن اور ایران دونوں کی شہریت کے حامل شہری کو حالیہ 12 روزہ جنگ کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
سویڈن کی وزیر خارجہ ماریا مالمر نے 'اے ایف پی' سے جمعہ کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ کو ایسی رپورٹس ملی ہیں کہ ہمارے شہری کو ایران میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ تاہم ہم یہ تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ تاہم ہم اس بارے میں معلومات جمع کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بدھ کے روز ہم نے ایرانی سفیر کو طلب کیا تھا اور سزائے موت کے اس فیصلے پر واضح طور پر مذمت کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سویڈن سزائے موت کے حوالے سے یورپی یونین کے مؤقف کی طرح بڑا واضح ہے۔ ہم ہمیشہ اور ہر جگہ کسی کو بھی سزائے موت دینے کی مخالفت کرتے ہیں۔ چاہے وہ کسی بھی طرح کے حالات میں دی گئی ہو۔ اس لیے ہم نے اپنے اس شہری کو سزائے موت دینے کے ایرانی عدالتی فیصلے کی بھی مذمت کی ہے۔
تہران نے اس بارے میں کچھ معلومات شیئر کی ہیں کہ شہری کو اسرائیل کے ساتھ ماہ جون میں لڑی جانے والی جنگ کے دوران جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جنگ کے دوران اسرائیل اور بعد ازاں امریکہ نے بھی ایرانی جوہری تنصیبات کو بمباری کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں متعدد اسرائیلی موساد ایجنسی کے جاسوسوں کو سزا سنائی گئی اور کئیوں کو پھانسی بھی دی جا چکی ہے۔