بینکوں میں پھنسی رقوم چار برس میں واپس کرنے کا منصوبہ بنایا ہے: لبنانی وزیر اعظم
نواف سلام نے ان افراد کے لیے بانڈز کی بات کی جن کی جمع پونجی ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے
لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے بینکوں میں پھنسی رقوم کے بحران کے حل کے لیے ایک مکمل قانونی فریم ورک تیار کر لیا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ جن صارفین کے اکاؤنٹ میں ایک لاکھ ڈالر سے کم رقم ہے انہیں ان کی پوری رقم واپس ملے گی تاکہ چھوٹے کھاتہ داروں کے ساتھ انصاف ہو اور مالیاتی نظام پر اعتماد بحال ہو۔
نواف سلام نے واضح کیا کہ جن کے ڈپازٹس ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ ہیں انہیں اس رقم کے علاوہ باقی ماندہ رقم کے برابر قابلِ تجارت بانڈز دیے جائیں گے تاکہ مالیاتی استحکام اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ رقوم کی واپسی کا عمل چار سال سے زیادہ نہیں لے گا اور حکومت ایک واضح ٹائم ٹیبل پر عمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ان لوگوں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے اور قانونی کارروائی کی جائے گی جنہوں نے مالیاتی بحران سے غیر معمولی منافع کمایا۔ حکومت "فنانشل گیپ قانون" کے مسودے پر بحث کی تیاری کر رہی ہے جس میں نقصانات کا تخمینہ 80 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
یاد رہے گزشتہ 6 سالوں سے لبنانی بینکوں کے صارفین اپنی جمع پونجی نکالنے کے لیے در بدر ہیں اور انہیں بینک مالکوں کے خلاف کسی مؤثر کارروائی کے بغیر اپنی ہی رقم کی کٹوتیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔