سعودی عرب میں موسمِ سرما داخل، آج سال کی سب سے لمبی رات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلکیاتی طور پر موسمِ سرما کا آغاز آج شام سے ہو رہا ہے، جو انقلابِ سرما کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ یہ سال کے سرد ترین موسم میں باضابطہ داخلے کی علامت ہے۔ یہ بات جامعہ القصیم کے سابق پروفیسرِ موسمیات ڈاکٹر عبداللہ المسند نے واضح کی۔

ڈاکٹر المسند نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر بتایا کہ آج شام 6 بج کر 3 منٹ پر سورج خطِ مدارِ جدی پر عموداً ہوگا، جس کے ساتھ ہی موسمِ سرما کا آغاز ہو جائے گا، جو تقریباً 89 دن تک جاری رہے گا۔ اس دن زمین اور سورج کے درمیان فاصلہ تقریباً 147اعشاریہ17 ملین کلومیٹر ہوگا۔

سال کی سب سے طویل رات

ڈاکٹر المسند نے بتایا کہ آج کا دن مملکت اور خطِ استوا کے شمال میں واقع تمام علاقوں میں سال کی سب سے طویل رات اور سب سے چھوٹا دن ہوتا ہے۔

ریاض میں دن کا دورانیہ 21 جون (انقلابِ گرما) کے مقابلے میں تقریباً 3 گھنٹے اور 4 منٹ کم ہوتا ہے۔ اس عرصے کے دوران درجۂ حرارت میں نمایاں کمی دیکھی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اسی دن 1993 میں ریاض میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت صرف 8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

مربعانیہ کی روایتی واپسی

اسی تناظر میں ماہرِ موسمیات ڈاکٹر خالد الزعاق نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ تقریباً 40 برس کے وقفے کے بعد مربعانیہ اپنی روایتی شکل میں واپس آ گئی ہے۔

ان کے مطابق اس موسم میں مربعانیہ کی تمام نمایاں خصوصیات، یعنی سخت سردی اور بارشیں، پوری طرح نمایاں ہیں، جو گزشتہ کئی دہائیوں میں واضح طور پر دیکھنے میں نہیں آ رہی تھیں۔

ڈاکٹر الزعاق نے یہ بھی پیش گوئی کی کہ تقریباً دو ہفتوں کے بعد موسمِ بہار کی علامات بتدریج ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گی، جس کے ساتھ موسم میں بہتری اور درجۂ حرارت میں اعتدال آئے گا۔

تیز ہوائیں اور دھند

دوسری جانب قومی مرکز برائے موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ گرد و غبار اُڑانے والی تیز ہواؤں کا اثر مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور تبوک کے بعض حصوں میں برقرار رہے گا، خاص طور پر ساحلی علاقوں میں۔ جبکہ شمالی سرحدی علاقے، الجوف، حائل، القصیم، ریاض اور مشرقی صوبے کے بعض حصوں میں دھند بننے کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں