ہمیں امریکہ، یورپ اور اسرائیل کی جانب سے ہمہ گیر جنگ کا سامنا ہے: ایرانی صدر

اقوام متحدہ نے جوہری پروگرام کے تناظر میں ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی ہیں: پزشکیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ہفتے کے روز کہا کہ ان کے ملک کو امریکہ، یورپ اور اسرائیل کی جانب سے ہمہ گیر جنگ کا سامنا ہے۔ یہ بیان ایرانی سرزمین پر اسرائیلی حملوں کے چھ ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ویب سائٹ پر دیے گئے ریمارکس میں کہا کہ میرے خیال میں ہم امریکہ، اسرائیل اور یورپ کے مقابلے میں ایک ہمہ گیر جنگ میں ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ ہمارا ملک اپنے پیروں پر کھڑا رہے۔ فرانس، برطانیہ اور جرمنی کی پہل پر اقوام متحدہ نے 28 ستمبر کو ایران کے جوہری پروگرام کی بنیاد پر اس پر اس وقت دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں جب مذاکرات کسی تصفیے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ جنگ اس سے بھی بدتر ہے جو عراق نے ہمارے خلاف شروع کی تھی۔ غور کرنے پر واضح ہوتا ہے کہ یہ کہیں زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہے۔ ان کا اشارہ 1980 سے 1988 کے درمیان دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان ہونے والے فوجی تنازع کی طرف تھا جس میں لاکھوں افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ واضح رہے امریکہ اور مغربی طاقتیں ایران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ تہران مسلسل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ 13 جون کو ایرانی فوجی و جوہری مقامات اور شہری علاقوں پر غیر معمولی اسرائیلی حملوں کے بعد دونوں کے درمیان 12 دن تک جنگ رہی تھی۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ جنگ کے آخری دنوں میں امریکہ بھی اس تصادم میں شامل ہو گیا اور تین ایرانی جوہری مقامات پر حملے کیے تھے۔

واشنگٹن کی شمولیت کے باعث اپریل میں ایران کے ساتھ شروع ہونے والے جوہری مذاکرات رک گئے۔ جنوری میں وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے امریکی صدر ٹرمپ نے زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی کو دوبارہ بحال کر دیا ہے جس کا مقصد ایران کی معیشت کو مفلوج کرنا اور اس کی تیل کی فروخت سے ہونے والی آمدنی کو بند کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں