ایران مغرب کی اشتعال انگیزی کے سامنے ضبطِ نفس کا مظاہرہ کر رہا: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ایران مغرب کی تمام اشتعال انگیزیوں کے جواب میں انتہائی درجے کے ضبطِ نفس کا مظاہرہ کر رہا ہے اور مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے۔

لاوروف نے اتوار کو "تاس" ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سال 2025 کے نتائج کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانیوں نے انتہائی درجے کے ضبطِ نفس کا مظاہرہ کیا ہے اور مغرب کی جانب سے تمام اشتعال انگیزیوں اور بلیک میلنگ کا جواب مذاکرات کی آمادگی سے دیا ہے تاکہ موجودہ اختلافات کے سیاسی حل کے راستے تلاش کیے جا سکیں۔

امن کی راہ میں رکاوٹ

روسی وزیر نے یورپی رہنماؤں پر بھی الزام لگایا کہ وہ ان کے ملک اور یوکرین کے درمیان امن کی راہ میں بنیادی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں انتظامیہ کی تبدیلی کے بعد یورپ اور یورپی یونین امن کی راہ میں بنیادی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ واضح رہے سلطنتِ عمان کی ثالثی میں نیوکلیئر معاملے کے حوالے سے ایران اور امریکہ کے درمیان اس سے قبل مذاکرات کے پانچ دور ہوئے تھے لیکن وہ کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔

ایرانی وفد چھٹے دور کی تیاری کر رہا تھا کہ اسرائیل نے ایران کے اندر فوجی اور ایٹمی مقامات کے خلاف فوجی کارروائی کر دی۔ امریکی افواج نے بھی ایران کی مشہور ایٹمی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔

بعد ازاں تہران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ اپنا تعاون روک دیا ۔ یورپی ٹرائیکا نے "سنیپ بیک" میکانزم یا جسے ٹریگر میکانزم کہا جاتا ہے اسے فعال کر دیا تاکہ سلامتی کونسل تہران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ کر دے۔ اس اقدام کو ماسکو اور بیجنگ دونوں نے غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں