مصر میں 35 ملین سال پرانے درختوں کی کٹائی پر تنازعہ، حکومت کی وضاحت
وزارت ماحولیات کا درختوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا اعلان
مصر میں پتھریلے جنگل کے 35 ملین سال سے زائد قدیم درختوں کی کٹائی کی گردش کرتی تصاویر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ یہ تصاویر مشرقی قاہرہ کے علاقے التجمع میں واقع پتھریلے جنگل کے ریزروکے اندر درختوں پر تجاوزات کو ظاہر کرتی ہیں، جس پر وسیع پیمانے پر تنقید سامنے آئی۔
اس صورتحال پر فوری ردعمل دیتے ہوئے کابینہ کے میڈیا سینٹر نے وضاحت جاری کی اور زور دیا کہ ریاست قدرتی اور ارضیاتی وسائل کے تحفظ کو اپنی قومی ترجیحات میں سرفہرست رکھتی ہے۔
کابینہ کے میڈیا سینٹر نے ایک اخباری بیان میں بتایا کہ وزارت ماحولیات سے رابطے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ واقعے کی نشاندہی ہوتے ہی موقع پر فیلڈ معائنہ کیا گیا، جس سے واضح ہوا کہ یہ مقام سرکاری نقشوں کے مطابق موجودہ محفوظ علاقے کی حدود سے باہر واقع ہے۔
وزارت ماحولیات نے وضاحت کی کہ اس وقت پتھریلے درختوں کو منتقل کرنے اور انہیں قدرتی محفوظ علاقے کے اندر ان کے اصل ماحول میں واپس لانے کے لیے سائنسی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک اوپن ایئر میوزیم قائم کیا جائے گا، جہاں ان درختوں کو پائیدار انداز میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا، تاکہ مصری ارضیاتی ورثے کی اہمیت سے متعلق عوامی شعور میں اضافہ ہو سکے۔
کابینہ کے میڈیا سینٹر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وزارت ماحولیات منتقلی اور جمع کرنے کے تمام مراحل کے دوران ماحولیاتی قوانین اور معیار پر مکمل عملدرآمد کی پابند ہے۔ صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ بیان میں اس امر پر زور دیا گیا کہ قدرتی وسائل کا تحفظ آئندہ نسلوں کے حقوق کے تحفظ کے مترادف ہے اور یہ ایک قومی ترجیح اور ذمہ داری ہے۔
دنیا کے نایاب ترین ارضیاتی مقامات میں شامل
یہ امر قابل ذکر ہے کہ قاہرہ الجدیدہ میں واقع پتھریلے جنگل کا محفوظ علاقہ دنیا کے نایاب ترین ارضیاتی مقامات میں شمار ہوتا ہے، جس کی تاریخ اولیگوسین عہد سے جا ملتی ہے، یعنی تقریباً 35 ملین سال قبل۔
اس محفوظ علاقے میں موجود درختوں کے تنے اور جڑیں ارضیاتی عوامل کے باعث پتھر میں تبدیل ہو چکی ہیں، جو زمین پر قدیم زندگی کے مطالعے کے لیے ایک قدرتی تجربہ گاہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
اوپن ایئر میوزیم کے قیام کا فیصلہ ایک اسٹریٹجک قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد اس علاقے کو عالمی سیاحتی اور ماحولیاتی مرکز میں تبدیل کرنا ہے، تاکہ سائنسی تحفظ اور سیاحتی فروغ کے امتزاج کے ذریعے اس قدرتی ورثے کی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ پتھریلے جنگل کو وزیراعظم کے فیصلہ نمبر 944 برائے سنہ 1989ء کے تحت قدرتی محفوظ علاقہ قرار دیا گیا تھا۔
-
مصر میں سردموسم اور بارش کے باوجود قبرص سے سیاح کی آمد
مصر اس وقت خراب موسم اور شدید سردی کی لہر سے دوچار ہے، کیونکہ شدید سرد ہوا کا ایک ...
بين الاقوامى -
جرمن سائنسدان خلا میں انسانی اعضا تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف
جرمنی کی باؤریائی مسیحی سوشلسٹ پارٹی (CSU) کا مقصد جرمنی کو یورپ کا خلائی مرکز اور ...
بين الاقوامى -
مصر کے آسمان پر چاند اور مشتری کا غیر معمولی ملاپ
''بدر کامل'' یا'' سپر مون ''اس وقت کہلاتا ہے ،جب مکمل چاند (بدر) زمین کے مدار میں ...
بين الاقوامى