امریکی آشیرباد کے سائے تلے ... اسرائیل "ایران کی بڑی غلطی" کا منتظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ عرصے میں ایران کے خلاف دی جانے والی بار بار دھمکیوں کے ساتھ ہی، اسرائیلی سکیورٹی ادارہ اس بات کا منتظر ہے کہ تہران کوئی “بڑی غلطی” کرے۔ یہ غلطی مثال کے طور پر اسرائیل کی جانب میزائل داغنے کی صورت میں ہو سکتی ہے یا ایران کے اندر مظاہرین کے خلاف تشدد میں اضافے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

اسرائیلی اخبار "معارف" کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی ادارہ بیک وقت کئی محاذوں پر لڑائی کے لیے تیاریاں کر رہا ہے، کیونکہ اس امر کا ادراک موجود ہے کہ ایران کی کسی بھی غلطی کے نتیجے میں امریکہ کی منظوری سے سخت فوجی رد عمل سامنے آئے گا۔

تل ابیب میں زیر بحث سوال یہ نہیں کہ یہ “غلطی” ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ یہ کب ہو گی۔

دو روز قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن نے ایک خصوصی سکیورٹی اجلاس کی صدارت کی، جو امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد پہلا اجلاس تھا۔

جب نیتن یاہو امریکہ گئے تھے تو ان کا ایک مقصد لبنان میں حزب الله کے خلاف کارروائی کے لیے امریکی منظوری حاصل کرنا تھا، جبکہ دوسرا مقصد کسی مرحلے پر ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کی بحالی کی کوششوں کے خلاف اقدام کے لیے امریکہ کی حمایت حاصل کرنا تھا۔

اسرائیلی اندازوں کے مطابق ایران ابھی بیلسٹک میزائلوں اور لانچنگ پلیٹ فارموں کی تعداد کے لحاظ سے “سرخ لکیر” تک نہیں پہنچا اور نہ وہ جون میں ہونے والی جنگ سے قبل والی سطح پر واپس آیا ہے۔ تاہم اسرائیل اب اس ہدف کے مکمل ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے خطرے کو اسی وقت نمٹانا چاہتا ہے جب وہ ابھی محدود سطح پر ہے۔

یوں لگتا ہے کہ تل ابیب کی ترجیحات بدل رہی ہیں۔ جہاں پہلے لبنان میں حزب الله کو اولین ہدف سمجھا جا رہا تھا، اب موجودہ مرحلے میں ایرانی منظرنامہ زیادہ اہم دکھائی دیتا ہے۔

خاص طور پر اس پس منظر میں کہ اسرائیلی انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق ایران “مہلک میزائلوں کے پرزے” حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسرائیلی ویب سائٹ "ویلا" کے مطابق، ایک اسرائیلی عہدے دار نے تصدیق کی ہے کہ تہران ایسے پرزے درآمد کر رہا ہے جو سینٹری فیوجز اور بیلسٹک میزائلوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی جانے والی دھمکیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ ایران خفیہ طور پر کیا کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے گذشتہ عرصے میں ایران کے حوالے سے واضح سرخ لکیریں متعین کی تھیں اور مظاہرین کے ساتھ “تشدد” برتنے سے خبردار کیا تھا۔ اس موقف نے نیتن کو بھی اپنی سرخ لکیر کھینچنے پر آمادہ کیا۔ چنانچہ انہوں نے کنیسٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا “اگر ہم پر حملہ کیا گیا تو ایران کو اس کے نہایت سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔”

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں