سعودی انٹیلی جنس نے یمن میں عید روس الزبیدی کا منصوبہ کیسے ناکام بنایا؟

عسکری امور کے ماہرین کے مطابق ریاض یمن میں تشدد کے دائرے کو پھیلنے سے روکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب کی انٹیلی جنس نے ایک تیز اور مؤثر سکیورٹی حکمت عملی کے تحت یمن میں جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی کے فرار اور اندرونی بد امنی کے منصوبے کو بے نقاب کرتے ہوئے غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ منصوبہ اماراتی نگرانی میں عدن کی بندرگاہ سے صومالیہ کے راستے ابو ظبی پہنچنے، الضالع کی جانب اسلحہ منتقل کرنے اور عدن میں مسلح عناصر پھیلا کر داخلی انتشار پیدا کرنے پر مشتمل تھا۔

فوجی ماہرین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ سعودی انٹیلی جنس کی برتری نے الزبیدی کے منصوبے کو ناکام بنا کر شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا اور تشدد کے دائرے کو پھیلنے سے روکا۔ ان کے مطابق یہ اقدام ایک نئے سکیورٹی حقیقت کا آغاز ہے۔

سعودی فوج کے ریٹائرڈ جنرل اور سیاسی محقق ڈاکٹر عبداللطیف الحمیدان نے کہا کہ سعودی انٹیلی جنس نے ایک پیشگی حکمت عملی اپنائی، جس کا مقصد بحران کے پھوٹنے کا انتظار کرنے کے بجائے ابتدائی مرحلے میں ارادوں کو بے نقاب کر کے انہیں ناکارہ بنانا تھا۔ ان کے مطابق معلومات کو سوچ سمجھ کر منظر عام پر لانا ایک نفسیاتی اور سیاسی پیشگی وار تھا، جس نے حامیوں کی متحرک ہونے کی صلاحیت مفلوج کر دی۔

الحمیدان نے زور دیا کہ جنوبی یمن میں سعودی انٹیلی جنس کا کردار داخلی ٹوٹ پھوٹ کے ایسے منظرنامے کو روکنے میں فیصلہ کن ثابت ہوا، جو حوثیوں کے مفاد میں جا سکتا تھا اور ریاست کی بحالی کی کسی بھی کوشش کو نقصان پہنچا سکتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی انٹیلی جنس کی اصل طاقت صرف معلومات جمع کرنے میں نہیں بلکہ ایک جماع تزویراتی تناظر میں ان کا تجزیہ کرنے میں ہے۔ الزبیدی کے معاملے میں فیلڈ نگرانی، مواصلاتی رابطوں کی نگرانی اور مالی و عسکری معاونت کے نیٹ ورک کی مکمل تصویر سامنے آ چکی تھی۔

اسی تناظر میں العربیہ نے ایک خصوصی آڈیو ریکارڈنگ نشر کی، جس میں الزبیدی اور ایک اعلیٰ اماراتی فوجی افسر کے درمیان گفتگو سامنے آئی۔ الحمیدان کے مطابق یہ انٹیلی جنس پیغام تھا کہ تمام نقل و حرکت آشکار ہو چکی ہے اور گنجائش صفر رہ گئی ہے۔

حالیہ دنوں میں یمن نے ایک اہم سیاسی مرحلہ ختم کیا، جب الزبیدی پر غداری کا الزام عائد کیا گیا اور جنوبی عبوری کونسل کو تحلیل کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ ریاض میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آیا، جسے ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

الحمیدان کے مطابق اس کارروائی کا پیغام یہ ہے کہ ریاستی دائرے سے باہر کسی بھی منصوبے کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں بلکہ حقائق کو بے نقاب کر کے بھی کیا جائے گا، جس سے یمنی حکومت کو دباؤ سے نجات اور صف بندی کا موقع ملے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ یمن کا امن سعودی قومی اور علاقائی سلامتی سے جڑا ہوا ہے اور کسی بھی اندرونی تقسیم یا متوازی ریاستی ڈھانچے کی کوشش کو اسٹریٹجک خطرہ سمجھا جائے گا۔

فوجی ماہر بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) فیصل الحمد نے کہا کہ سعودی انٹیلی جنس کی یہ کارروائی مسلح گروہوں اور ان کے سرپرستوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ ریاض تمام حرکات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی اور مسلح تنظیموں کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں متعدد منصوبوں کی بروقت ناکامی بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں