مغربی کنارا : درجنوں نقاب پوش مسلح اسرائیلیوں کا فلسطینیوں پر تشدد ، ویڈیو وائرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے دیر شرف میں درجنوں نقاب پوش لاٹھیوں سے مسلح اسرائیلیوں نے فلسطینی شہریوں پر حملہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔

یہ واقعہ دیر شرف میں ایک پلانٹ کی نرسری میں پیش آیا۔ جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی زخمی ہوگیا۔ بعدازاں اس پرتشدد واقعے کی ویڈیو امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کو ملی۔

بتایا گیا ہے کہ یہ ویڈیو سیکیورٹی کیمروں کے ذریعے بنی تھی۔ جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زیادہ تر اسرائیلی جو مبینہ طور پر یہودی آبادکار تھے، فلسطینیوں پر حملہ آور ہوئے۔ ان کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں اور وہ فلسطینیوں کو لاٹھیوں اور لاتوں سے تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے۔ جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی زمین پر گرا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ جو تشدد برداشت کر رہا تھا۔

اس پرتشدد واقعے کے دو عینی شاہدوں نے بتایا کہ نشانہ بننے والے فلسطینی اپنی ہی جگہ پر موجود تھے کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ 67 سالہ باسم صالح یسین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی نرسری سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے جو مغربی کنارے کے شمالی حصے دیر شرف نامی گاؤں میں واقع ہے، جب یہ واقعہ پیش آیا۔

تاہم باسم صالح یاسین نے اپنی اس سے زیادہ شناخت ظاہر کرنے سے معذرت کی اور کہا انہیں بھی یہودی آبادکاروں کی طرف سے خطرہ ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یاسین نامی ایک فلسطینی کی اس تشدد کے نتیجے میں ہاتھ کی ہڈی بھی ٹوٹی ہیں جسے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ایک اور فلسطینی کو چہرے ، چھاتی اور کمر پر چوٹیں آئی ہیں۔

اس دوران نقاب پوش یہودی آبادکاروں نے فلسطینیوں کی چار موٹر کاروں کی بھی پہلے توڑ پھوڑ کی اور پھر انہیں آگ لگا دی۔

یہ واقعہ فلسطینیوں کے خلاف مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی پرتشدد کارروائیوں کا تازہ ترین واقعہ ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا یہودی آبادکار فلسطینیوں کے زیتون کی فصل کے کاٹنے کے موقع پر حملہ آور ہوئے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ واقعے کے مرتکب چند انتہا پسند تھے۔ انہوں نے کہا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کا تعاقب کرنا چاہیے تاکہ قانون ان کے ساتھ خود نمٹ لے۔

دوسری طرف انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والے گروپوں اور فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف چند انتہا پسند یہودیوں کا نہیں ہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ کیونکہ ایسے واقعات مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریبا ہر روز ہو رہے ہیں اور کوئی ان کو روکنے والا نہیں ہے۔

اسرائیی ریاست کی فوج نے اس واقعے کے بارے میں فوری طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

تشدد کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں میں سے ایک کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ یہ جرمنی کی شہریت رکھنے والے فلسطینی خاندان کی نرسری ہے۔ اس سال کے دوران نرسری پر یہودی آبادکاروں کا یہ تیسرا حملہ تھا۔ اس سے پہلے اسی نوعیت کا واقعہ یہودی آبادکاروں کے ہاتھوں ماہ ستمبر میں پیش آیا تھا۔ جب تقریبا 6 لاکھ ڈالر سے زائد کا فلسطینیوں کو کاروباری نقصان پہنچایا گیا تھا۔

تازہ واقعے میں نرسری میں کام کرنے والے کارکنوں نے دیکھا کہ یہودی آبادکار آرہے ہیں تو نرسری میں کام کرنے والے کارکن بھاگ گئے۔ جبکہ یاسین نامی فلسطینی بہرہ ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھیوں کے بھاگنے کی آواز نہ سن سکا اور وہیں رہ گیا۔

تاہم بعدازاں بننے والی ویڈیو میں یایسن کے پیچھے نقاب پوش گروپ کو بھاگتے ہوئے دیکھا گیا اور اسی دوران یاسین زمین پر گر گیا۔

ایک نقاب پوش اس پر ککس لگا رہا تھا۔ جبکہ دوسرے نے بھی دو مرتبہ اس کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے ہاتھ میں لاٹھی تھی جو اس کے سر پر مار رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size