اردن میں کچرے سے نمٹنے کے لیے اسمارٹ کیمرے اور سخت جرمانے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

اردنی حکومت نے گزشتہ اتوار کو 2027-2026 کے لیے صفائی کی حکمتِ عملی اور کچرے کے بے ترتیب پھینکاؤ کی روک تھام کے لیے ایک عملی پروگرام کا آغاز کیا، جس کا مقصد ماحول کا تحفظ، عوامی صفائی کی سطح کو بہتر بنانا اور ذمہ دار ماحولیاتی رویّے کو فروغ دینا ہے۔

یہ پروگرام ایک جامع نظام پر مبنی ہے ،جو نگرانی اور آگاہی سے متعلق اقدامات کو یکجا کرتا ہے اور مملکت کی تمام گورنریٹس میں پائیداری اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

اس رجحان سے جڑے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی چیلنجز کے پیشِ نظر اس پروگرام کا مقصد سڑکوں، چوراہوں، عوامی مقامات، جنگلاتی و قدرتی علاقوں، نیز سیاحتی اور آثارِ قدیمہ کے مقامات پر کچرے کے انتظام کو بہتر بنانا ہے۔

وزارتِ ماحولیات کے اعداد و شمار کے مطابق اردن میں 2024 کے دوران بلدیاتی ٹھوس کچرے کی مقدار تقریباً 40 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی، جس کی یومیہ اوسط تقریباً 11 ہزار ٹن ہے، جبکہ فی فرد یومیہ اوسط حصہ تقریباً 0اعشاریہ87 کلوگرام بنتا ہے۔صرف گریٹر عمان میونسپلٹی سالانہ 14 لاکھ ٹن کچرا وصول کرتی ہے، جبکہ وزارتِ بلدیاتی انتظامیہ کے تحت قائم ڈمپنگ سائٹس 24 لاکھ ٹن کچرا سنبھالتی ہیں۔

مملکت میں کچرے کو جمع کرنے، منتقل کرنے اور اس پر عمل کاری کی مجموعی سالانہ لاگت تقریباً 233 ملین اردنی دینار ہے، جس میں فی ٹن براہِ راست لاگت اوسطاً 60 دینار بنتی ہے۔

اس شعبے میں تقریباً 12 ہزار 600 کارکن کام کر رہے ہیں، جن میں 7 ہزار 500 غیر رسمی کارکن شامل ہیں، جبکہ کچرے کے انتظام کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں اور مشینری کی تعداد 2 ہزار 484 ہے، جو شہروں اور دیہی علاقوں کی صفائی برقرار رکھنے کے لیے درکار وسیع کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔

مختلف ردِعمل

اس پروگرام میں جنگلاتی تفریحی مقامات، سیاحتی اور آثارِ قدیمہ کی جگہوں اور بلدیاتی حدود سے باہر مرکزی شاہراہوں سے کچرے کی جمع آوری اور منتقلی شامل ہے۔

اس کے علاوہ کچرے کے انتظام کے بنیادی ڈھانچے کو مرحلہ وار بہتر بنایا جائے گا، جس میں آبادی کی کثافت اور استعمال کی نوعیت کے مطابق کوڑے دانوں کی تعداد میں اضافہ اور ان کی منصفانہ تقسیم، جدید اور مؤثر گاڑیوں کے ذریعے جمع آوری اور نقل و حمل کے نظام کی اپ گریڈیشن اور کچرے کو محفوظ اور پائیدار طریقوں سے ٹھکانے لگانے کے جدید طریقوں کا اطلاق شامل ہے۔

اس پروگرام کے تحت ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے لیے ایک خصوصی الیکٹرانک نظام بھی متعارف کرایا جائے گا، جس کے لیے کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ ان میں سے 50 کیمرے عمّان میں اور 250 دیگر صوبوں میں لگائے جائیں گے، جبکہ جرمانوں کی مالیت 50 سے 500 اردنی دینار (70 سے 705 امریکی ڈالر) کے درمیان ہوگی۔

اس پروگرام پر اردنی شہریوں کے ردِعمل مختلف رہے۔ ٹیکسی ڈرائیور احمد العکور کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں حکومت کا بنیادی مقصد مالی جرمانے وصول کرنا ہے۔ انہوں نے کہا:زیادہ تر لوگ جرمانے کو پیسے جمع کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، نہ کہ ماحول بہتر بنانے کا۔

اس کے برعکس یونیورسٹی کے طالب علم عمر صویص نے اس پروگرام کو ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کا موقع قرار دیا اور کہا:اگر ہم قوانین کی پابندی کریں اور بطور معاشرہ تعاون کریں تو صفائی میں نمایاں بہتری آئے گی اور جرمانے محض پابندی کو یقینی بنانے کے نظام کا ایک حصہ ہیں۔

وزیرِ ماحولیات ایمن سلیمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ یہ پروگرام ایک جامع حکمتِ عملی پر مبنی ہے ،جو ماحولیاتی اور ترقیاتی پالیسیوں کو یکجا کرتی ہے، پائیداری کے اصولوں کو مضبوط بناتی ہے اور شہریوں اور سیاحوں کے لیے معیارِ زندگی کو بہتر کرتی ہے۔

سلیمان نے مزید کہا کہ یہ پروگرام چار بنیادی محوروں پر مرکوز ہے، جو کچرے کے بے ترتیب پھینکاؤ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط نظام فراہم کرتے ہیں۔ اس نظام میں انتظامی، فنی، نگرانی اور آگاہی سے متعلق اقدامات شامل ہیں، جو مختلف علاقوں میں موجود چیلنجز اور ضروریات کے حقیقت پسندانہ جائزے کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نگرانی کے اقدامات، جن میں عمّان اور دیگر صوبوں میں خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے 300 اسمارٹ کیمرے نصب کرنا شامل ہے، کا مقصد فیس یا آمدنی حاصل کرنا نہیں بلکہ منفی رویّوں کو کم کرنا اور مثبت ماحولیاتی طرزِ عمل کو فروغ دینا ہے۔

وزیر نے وضاحت کی کہ اس پروگرام میں موسمی صفائی مہمات، کچرے کے انتظام کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، جمع آوری اور نقل و حمل کے طریقۂ کار میں بہتری اور سیاحتی و آثارِ قدیمہ کے مقامات پر خصوصی توجہ شامل ہے، تاکہ سیاحت کو فروغ دیا جا سکے اور مملکت کی مہذب اور خوبصورت شبیہ برقرار رہے۔

دوسری جانب گریٹر عمان میونسپلٹی کے ترجمان ناصر الرحامنہ نے کہا کہ عمّان اور دیگر صوبوں میں صفائی اور ماحولیاتی پابندیوں کو فروغ دینے کی قومی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد کچرے کے غیر مناسب تصرف سے متعلق منفی رویّوں میں کمی لانا ہے۔

انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ مقصد کبھی بھی جرمانوں یا مالی معاملات پر توجہ مرکوز کرنا نہیں تھا اور نہ ہی ہوگا اور اس بات کی تصدیق کی کہ دارالحکومت عمّان انتہائی صاف ہے اور امانتِ عمان اس حوالے سے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔
الرحامنہ نے مزید کہا کہ یہ حکمتِ عملی شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے، کچرے کے انتظام کی لاگت کم کرنے، گردشی معیشت کو فروغ دینے اور سماجی ذمہ داری کے کلچر کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ تمام متعلقہ وزارتیں اور گریٹر عمان میونسپلٹی باہمی تعاون اور شراکت داری کے ساتھ ایک ہی وژن پر کام کر رہی ہیں تاکہ اس حکمتِ عملی کو تمام سڑکوں اور علاقوں میں مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔

سماجی پہلو

سماجیات کی ماہر ڈاکٹر فادیہ ابراہیم نے کہا کہ کچرے کو بے ترتیب انداز میں پھینکنے کا رجحان محض صفائی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ معاشرے کے شعور کی سطح اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ بے ترتیب کچرا پھینکنا جدید معاشروں میں سب سے زیادہ پھیلنے والے ماحولیاتی مسائل میں سے ایک ہے، کیونکہ اس کے صحت، سماج اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ صحت کے حوالے سے کیڑے مکوڑوں اور چوہوں کی افزائش، بیماریوں کے پھیلاؤ اور مٹی و پانی کی آلودگی کا باعث بنتا ہے، جبکہ سماجی طور پر اس سے جگہ کے ساتھ وابستگی کمزور ہوتی ہے اور بے حسی کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح معاشی طور پر بلدیات کو کچرے کی صفائی اور اس کے ازالے کے لیے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

ڈاکٹر فادیہ ابراہیم نے مزید کہا کہ اگر صفائی کے لیے قومی یا مقامی سطح پر کوئی حکمتِ عملی موجود ہو مگر اس کے ساتھ واضح عملی پروگرام نہ ہو تو اس کی مؤثریت کم ہو جاتی ہے۔

انہوں نے صفائی کو قابلِ پیمائش کارکردگی کے اشاریوں سے جوڑنے، اور بلدیات، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ان کے مطابق اس مسئلے کا بہترین حل تین باہم مربوط راستوں پر مشتمل ہے:
اوّل :قانونی اور نگرانی کا راستہ تاکہ قوانین کا مؤثر نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔
دوم: آگاہی اور تعلیمی راستہ جس کے ذریعے اسکول سے لے کر میڈیا اور سماجی اداروں تک صفائی کی ثقافت کو فروغ دیا جائے۔
سوم: خدماتی اور عملی راستہ جس میں وافر تعداد میں کوڑے دانوں کی فراہمی، باقاعدہ صفائی اور کچرے کی جدید اور تخلیقی ری سائیکلنگ شامل ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size