صورت حال کے جائزے کے بعد ٹرمپ کا ایران میں حرکت میں آنے کا عندیہ ... تہران کا رد عمل
ایرانی کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیغام ... امریکی صدر پر ہنگامے بھڑکانے اور "فوجی مداخلت" کا بہانہ تلاش کرنے کا الزام
ایران میں صورت حال دن بہ دن کشیدہ ہوتی جا رہی ہے، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو عسکری کارروائی کی دھمکیوں کے بعد، جن کا تعلق "احتجاج کرنے والے شہریوں کے قتل" سے جوڑا گیا۔ اس کے جواب میں ایران نے مختلف ذرائع اور اعلیٰ حکام کے بیانات کے ذریعے رد عمل ظاہر کیا ہے۔
ترمب: سنتخذ إجراءات قوية جدًا في حال أعدمت إيران محتجين جدد.. وأكسيوس: مناقشات الإدارة الأميركية لم تصل إلى مرحلة اتخاذ قرار بشأن شن عمل عسكري ضد طهران#قناة_العربية#ترمب #إيران pic.twitter.com/VXxSpnngDb
— العربية (@AlArabiya) January 14, 2026
ٹرمپ نے منگل کے روز ایران کے بارے میں متعدد بیانات دیے۔ مشی گن سے واشنگٹن واپس آتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کی صورت حال ان کی اولین ترجیح ہے۔ انھوں نے دھمکی دی کہ امریکہ جلد فوجی کارروائی کر سکتا ہے، جس کا انحصار "احتجاجیوں پر مظالم" کی شدت پر ہوگا۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ امریکہ پہلے بھی ایران کے جوہری ہدف پر حملہ کر چکا ہے۔ امریکی صدر نے ایران کو "صحیح رویہ" اپنانے کی نصیحت کی۔
ٹرمپ نے CBS نیٹ ورک کو دیے گئے انٹرویو میں خبردار کیا کہ اگر ایران نے احتجاجیوں کو موت کی سزا دی تو امریکہ "شدید کارروائی" کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ ایران کو اس حد تک کمزور بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کوئی بھی حملہ اس کے (حکمراں) نظام کے خاتمے کے لیے مؤثر ثابت ہو۔
ردا على تصريحات ترمب .. قائد الجيش الإيراني: قادرون على التعامل مع التهديدات #قناة_العربية #أخبار_الصباح pic.twitter.com/gww6BQW8UH
— العربية (@AlArabiya) January 14, 2026
ٹرمپ نے احتجاج میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار کے بارے میں کہا کہ ابھی تک درست تعداد معلوم نہیں، لیکن تعداد بہت زیادہ ہے۔ امریکی اور ایرانی ذرائع کے مطابق ہلاکتوں کے اعداد مختلف ہیں: امریکہ کے ایک عہدے دار نے اسرائیل سے ملنے والی معلومات کے حوالے سے بتایا کہ کم از کم 5 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ایرانی وزارت صحت نے تقریباً 3 ہزار ہلاکتیں بتائیں، جبکہ انسانی حقوق کی دو تنظیموں نے بالترتیب 2,500 اور 2,571 ہلاکتیں بیان کی ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں احتجاج کرنے والے "ایرانی شہریوں" کو حوصلہ دیا کہ وہ مظاہرے جاری رکھیں اور قاتلوں کے نام ریکارڈ کریں، کیونکہ انہیں "بہت بھاری قیمت" چکانا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں اور مدد راستے میں ہے، تاہم اس کی وضاحت نہیں کی۔
ایران کی طرف سے رد عمل بھی کئی سطحوں پر سامنے آیا۔ ایرانی قومی سلامتی کے سکریٹری علی لاریجانی نے ٹرمپ کو "قاتلوں کی فہرست" میں سر فہرست قرار دیا۔ ایرانی سفیر نے اقوام متحدہ میں امریکہ پر سیاسی عدم استحکام اور فوجی مداخلت کی کوشش کے الزامات عائد کیے۔ ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب نے بھی واضح کیا کہ کسی بھی جارحانہ اقدام پر سخت جواب دیا جائے گا اور دفاعی تیاریاں مکمل ہیں۔
بعد أن قال للمحتجين احفظوا أسماء القتلة .. لاريجاني ردا على ترمب: قتلة الشعب الإيراني هم ترمب ثم نتنياهو#قناة_العربية #أخبار_الصباح pic.twitter.com/hz5MRe63Tx
— العربية (@AlArabiya) January 14, 2026
ایران میں عدالت نے احتجاجیوں کے خلاف پہلا الزامی نوٹس جاری کیا، جس میں ملوث افراد کے لیے ممکنہ سزائیں، بشمول سزائے موت کا ذکر ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شہریوں کے احتجاج کے حق کو تسلیم کیا، لیکن تخریب، ہتھیار استعمال کرنے اور شہریوں پر فائرنگ کو "سرخ لکیر" قرار دیا۔ انھوں نے دیگر ممالک سے زمین پر موجود حقیقت کو مدنظر رکھنے کی اپیل کی۔