ایلون مسک کی کمپنی سٹار لنک ایران میں اپنی صلاحیتوں کی جانچ کر رہی

سپیس ایکس سٹار لنک کے شیئر لانے پر غور کررہی، جانچا جائے گا یہ ایرانی حملوں کا مقابلہ کیسے کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایران کے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ کی جزوی معطلی کے دوران امریکی ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی سٹار لنک کو مشکل چیلنجز کا سامنا ہے۔ سٹار لنک کی مالک کمپنی ’’ سپیس ایکس ‘‘ نے ہفتے کے آغاز سے ایرانیوں کے لیے یہ سروس مفت فراہم کر دی ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ امریکی فوج اور انٹیلی جنس ادارے جو سٹار لنک اور اس کے فوجی ورژن ’’ سٹار شیلڈ ‘‘ کا استعمال کرتے ہیں اور ساتھ ہی چین ۔ جس کے ابھرتے ہوئے سیٹلائٹ آنے والے سالوں میں سٹار لنک کا مقابلہ کرنے والے ہیں ۔ اس بات پر گہری نظر رکھیں گے کہ سپیس ایکس اپنے سب سے منافع بخش کاروبار پر ایرانی حملوں کا مقابلہ کیسے کرتی ہے۔

ایران کی صورتحال سٹار لنک کے لیے ایک بہترین موقع بھی ہے کیونکہ سپیس ایکس اس سال سٹار لنک کو سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرنے کے لیے اپنے شیئرز عوامی سطح پر لانے پر غور کر رہی ہے۔

عجیب مرحلہ

اس تناظر میں سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں پینٹاگون کے خلائی پالیسی کے سابق عہدیدار جان پلمب نے کہا کہ ہم خلائی مواصلات کی تاریخ کے ایک ابتدائی اور عجیب مرحلے میں ہیں جہاں سپیس ایکس اس پیمانے پر واحد حقیقی فراہم کنندہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ نظام اب بھی سمجھتے ہیں کہ وہ مواصلات منقطع کر سکتے ہیں لیکن وہ دن قریب ہے جب یہ ناممکن ہو جائے گا۔

سٹار لنک کیسے پہنچی؟

ایران میں متعدد مظاہرین نے سٹار لنک سروس کا استعمال کیا ہے جسے حکام کے لیے کیبل نیٹ ورکس اور موبائل ٹاورز کے برعکس کنٹرول کرنا مشکل ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل میں ایرانی امور کی محقق رہا بحرینی نے بتایا کہ انہوں نے ایران سے آنے والی درجنوں ویڈیوز کی تصدیق کی ہے جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ ان میں سے زیادہ تر ایسے لوگوں کی طرف سے آئی ہیں جنہیں سٹار لنک تک رسائی حاصل تھی۔

امریکی غیر منافع بخش تنظیم ’’ ہولسٹک ریزیلینس ‘‘ کا خیال ہے کہ ملک میں اس سروس پر پابندی کے باوجود دسیوں ہزار سٹار لنک ڈیوائسز ایران میں سمگل کی گئی ہو سکتی ہیں۔ تاہم تنظیم نے اشارہ کیا کہ استعمال شدہ آلات کی اصل تعداد اب بھی واضح نہیں ہے۔ تنظیم نے یہ بھی بتایا کہ اس نے ایرانیوں تک سٹار لنک ڈیوائسز پہنچانے کے لیے کام کیا ہے اور کہا کہ وہ سپیس ایکس کے ساتھ مل کر ان کوششوں کی نگرانی کر رہی ہے جنہیں اس نے نظام میں خلل ڈالنے کی ایرانی کوششیں قرار دیا ہے۔ ’’ ہولسٹک ریزیلینس ‘‘ اور دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ایران نے سٹار لنک کے سگنلز کو روکنے کے لیے سیٹلائٹ جیمرز کا استعمال کیا ہو۔

یاد رہے صارفین کے لیے سٹار لنک کے آلات مستطیل شکل کے اینٹینا ڈشز ہیں جو دو سائز میں آتے ہیں، ایک پیزا باکس کے سائز کا اور دوسرا چھوٹا لیپ ٹاپ کے سائز کا ہوتا ہے۔ خلائی انٹرنیٹ کی اپنی نوعیت کی پہلی سروس "سٹار لنک" جنگ کے اوقات اور دور دراز علاقوں میں مواصلات کے ایک انتہائی اہم آلے کے طور پر ابھری ہے۔ اس نیٹ ورک ، جس نے 2024 میں سپیس ایکس کے لیے 15 بلین ڈالر کی آمدنی حاصل کی، نے ایلون مسک کے جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ کو بڑھانے میں مدد دی ہے۔

واضح رہے لگ بھگ 10 ہزار سٹار لنک سیٹلائٹس نچلے مدار میں تقریباً 27,360 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے سگنلز کے مقام کا تعین کرنا اور انہیں ناکارہ بنانا روایتی سیٹلائٹ سسٹمز کے مقابلے میں بہت مشکل ہے۔ یہ سیٹلائٹس ایک بڑے سیٹلائٹ پر مبنی ہوتے ہیں اور ایک مخصوص علاقے کے اوپر ساکن ہوتے ہیں۔

اگرچہ سٹار لنک سروس کو ایران میں کام کرنے کا لائسنس حاصل نہیں ہے تاہم ایلون مسک نے بارہا پلیٹ فارم ’’ ایکس‘‘ پر اس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے جس کی وجہ سے ایرانی حکومت نے برسوں تک اس سروس کا مقابلہ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق جون 2025 میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا جس میں سٹار لنک کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی اور اس غیر لائسنس یافتہ ٹیکنالوجی کو استعمال یا تقسیم کرنے والوں پر سخت سزائیں مقرر کی گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں