اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دعوت کو قبول کرلیا ہے جس کے تحت انہیں مجوزہ غزہ امن کونسل میں شمولیت اختیار کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔
بدھ کے روز جاری ایک مختصر بیان میں نیتن یاھو کے دفتر نے کہا کہ انہوں نے امریکی صدر کی دعوت قبول کرلی ہے اور وہ اس امن کونسل کے رکن کی حیثیت سے شامل ہوں گے جس میں دنیا بھر کے رہنما شریک ہوں گے۔
عالمی تنازعات کے حل کا ہدف
ابتدائی طور پر امن کونسل کے قیام کا مقصد غزہ پٹی کی تعمیر نو کی نگرانی تھا جو اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ سے تباہ ہوچکی ہے۔ تاہم ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ منشور سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کونسل کو وسیع اختیارات دیے جا رہے ہیں جن کا مقصد دنیا بھر میں مسلح تنازعات کے حل میں کردار ادا کرنا ہے۔
منشور میں کہا گیا ہے کہ یہ کونسل استحکام کے فروغ، قابل اعتماد قانونی طرز حکمرانی کی بحالی اور ان علاقوں میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گی جو تنازعات سے متاثر ہیں یا جنہیں تنازعات کا خطرہ لاحق ہے۔
اعلامیے کے مطابق اس کونسل کی صدارت صدر ٹرمپ خود کریں گے جبکہ وہ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کے نمائندے کے طور پر بھی الگ حیثیت میں خدمات انجام دیں گے۔
درجنوں ممالک اور عالمی رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ انہیں اس کونسل میں شمولیت کی دعوت موصول ہوئی ہے جن میں واشنگٹن کے قریبی اتحادی بھی شامل ہیں اور بعض ایسے ممالک بھی جن کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔
تاہم امریکہ کا تاریخی اتحادی فرانس اس کونسل میں شامل نہ ہونے کا عندیہ دے چکا ہے۔
متنازعہ شرکت
بنجمن نیتن یاھو کی اس کونسل میں شمولیت کئی ممالک کے لیے ایک متنازع معاملہ بن سکتی ہے خاص طور پر اس پس منظر میں کہ ان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت میں غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت کارروائی جاری ہے جن میں بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا اور شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا شامل ہے۔
اسی طرح اسرائیل کی شرکت بعض دیگر ممالک کے لیے بھی حساسیت کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ ان ممالک کے ساتھ اس کے اختلافات موجود ہیں اور انہیں بھی اس کونسل میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔