رفعت الاسد کا انتقال ..."حماہ کا قصاب" جس نے اپنے بھائی کے خلاف بغاوت کی تھی
شام میں سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش میں آئی اور ساتھ ان کے ماضی کو بھی کھنگالا
شام کے سابق صدر حافظ الاسد کے بھائی رفعت الاسد کے انتقال کی خبریں شامی صفحات پر گردش کرنے کے بعد دو باخبر ذرائع نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔
با خبر ذرائع نے بدھ کے روز خبر رساں ادارے "روئٹرز" کو بتایا کہ معزول شامی صدر بشار الاسد کے چچا رفعت الاسد کا انتقال ہو گیا ہے، تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ ادھر شامی سوشل میڈیا صفحات پر ان کے ماضی کو یاد کرتے ہوئے یہ خبر تیزی سے پھیل رہی ہے۔
رفعت الاسد 1982 میں حماہ کی شورش کو انتہائی تشدد کے ساتھ کچلنے کی وجہ سے مشہور ہوئے اور انہیں "جزارِ حماہ" (حماہ کا قصاب) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بعد ازاں اپنے بھائی حافظ الاسد کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد وہ یورپ جلاوطن ہو گئے تھے۔
وہ 2021 میں بشار الاسد کے دورِ حکومت میں دوبارہ شام واپس آئے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بشار نے انہیں "معاف" کر دیا تھا۔ جب بشار الاسد کا اقتدار گرا، تو رفعت نے ایک روسی فضائی اڈے کے ذریعے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن انہیں داخلے سے روک دیا گیا۔ ایک باخبر ذریعے کے مطابق، وہ بالآخر ایک دریا پار کر کے لبنان پہنچے، جہاں ان کے ایک قریبی ساتھی نے انہیں اپنی پیٹھ پر اٹھا کر سرحد پار کرائی۔
BREAKING - Refaat Al-Assad, brother of late Syrian President Hafez Al-Assad, is dead -- two people with direct knowledge @reuters
— Timour Azhari (@timourazhari) January 21, 2026
He gained notoriety for violently suppressing the 1982 Hama uprising and later went into exile in Europe after staging a failed coup against Hafez.
یاد رہے کہ 2020 میں ایک فرانسیسی عدالت نے رفعت الاسد کو شامی ریاست کے فنڈز غیر قانونی طور پر منتقل کر کے فرانس میں کروڑوں یورو کی جائیدادیں خریدنے کے جرم میں چار سال قید کی سزا سنائی تھی۔
اس وقت فرانس میں ان کی تمام جائیدادیں ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے جن کی مالیت 10 کروڑ یورو لگائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ لندن میں بھی ان کی 2.9 کروڑ یورو کی ایک جائیداد موجود تھی۔ تاہم رفعت الاسد ان الزامات کی ہمیشہ تردید کرتے رہے۔
-
میں نے شام میں یورپی 'دہشت گردوں' کا جیل سے فرار روکنے میں مدد کی: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ انہوں نے شام میں یورپی "دہشت گردوں" کی جیل ...
بين الاقوامى -
کردش افواج کی تحلیل ضروری ہے: ترکیہ کے ایردوان کا شام میں جنگ بندی کا خیرمقدم
ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ شمالی شام میں کرد افواج لازماً ...
بين الاقوامى -
سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے انخلا کے بعد ... شامی فوج گاڑیوں سمیت الہول کیمپ میں داخل
شمال مشرقی شام میں موجود "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" (ایس ڈی ایف) کی جانب سے الہول ...
مشرق وسطی