احتجاجی ہنگامہ آرائی کے دوران 3117 افراد ہلاک ہوئے : ایران سرکاری میڈیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران میں 28 دسمبر 2025 سے شروع ہونے والے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے دوران مجموعی طور پر 3117 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ یہ بات بدھ کے روز سرکاری میڈیا کے ذریعے سامنے لائی گئی ہے۔

احتجاج بظاہر تاجروں اور دکانداروں نے ایرانی کرنسی کی قدر کے غیر معمولی طور پر گر جانے کے خلاف شروع کیا تھا کہ اس سے افراط زر اور مہنگائی کا گراف بہت اونچا چلا گیا ہے۔ مگر بعد ازاں یہ احتجاج حکومت کے خاتمے کی تحریک میں تبدیل ہوگیا۔ جسے حکومت نے سخت کریک ڈاون کرکے قابو کرنے کی کوشش کی۔

شہدا کے حوالے سے قائم 'فاؤنڈیشن فار ویٹرنز' نے ٹی وی کو بتایا کل 2427 افراد مارے گئے جن میں سیکیورٹی اداروں کے افراد بھی شامل ہیں۔

سرکاری حکام نے اس احتجاج کی مذمت کرتے ہوئے کہا یہ احتجاج نہیں دہشت گردی تھی۔ جس کے لیے فساد کا راستہ اختیار کیا گیا۔ جبکہ اس پرامریکہ تیل چھڑکتا رہا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے اداروں نے کہا ہے کہ ہزاروں مظاہرین کو براہ راست فائرنگ سے نشانہ بنایا گیا کیونکہ یہ مظاہرین ایرانی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ناروے میں قائم ایک انسانی حقوق ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہلاک کیے گئے ایرانی لوگوں کی تعداد 3428 ہے۔ تاہم اس این جی او نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ بعض اندازوں کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد پانچ ہزار سے بیس ہزار ہو سکتی ہے۔

اس نارویجن این جی او کے مطابق انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے ایران میں ہونے والی ہلاکتوں اور گرفتاریوں کی درست تعداد کا اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے۔ انٹرنیٹ پر یہ پابندی 300 گھنٹوں سے زائد ہو چکی ہے۔

ادھر ایرانی ویٹرنز کی تنظیم کے بیان کے مطابق ان ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد ان راہ چلتے لوگوں کی ہے جو مظاہروں کے دوران راہ چلتے مارے گئے۔ یہ بے گناہ اور معصوم لوگ تھے اور شہید ہیں۔

اس فورم نے مزید کہا ہے ان میں کچھ مظاہرین بھی شامل ہیں جو احتجاج میں شامل ہو چکے دہشت گردوں کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ تاہم اس بارے میں شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ البتہ ویٹرنز کے اس فورم نے ایران کے خلاف دشمنوں کی سازشوں اور محاصرے کی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایرانی سیکیورٹی حکام نے کئی جگہوں پر مظاہرین کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا ہے.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں