فلسطینی اتھارٹی نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی طرف سے پیدا کردہ صورت حال کو بد ترین اور تشویشناک قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں فلسطینی وزیر اعظم محمد مصطفی نے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے اسرائیل مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو آئے روز نئی نئی رکاوٹوں سے نشانہ بنا رہا ہے۔
اسرائیلی فوج نہ صرف غزہ میں آئے روز جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کرتی ہے بلکہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوج کی ہر روز کارروائیاں جاری ہیں۔ جن میں فلسطینیوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم محمد مصطفی نے ان خیالات کا اظہار ورلڈ اکنامک فورم سے ڈیواس میں خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔
انہوں نے کہا مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو بہت سے مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ جبکہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان سات اکتوبر 2023 کے بعد بہت کم رابطہ ہوا ہے۔
وزیر اعظم نے مغربی کنارے میں معاشی حالات کوبھی اجاگر کیا اور کہا اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے فنڈز روک رکھے ہیں جبکہ چیک پوسٹوں میں اضافہ کردیا ہے۔ علاوہ ازیں اسرائیلی فوج کے ساتھ ساتھ یہودی آباد کاروں کی طرف سے بھی پر تشدد کارروائیاں بھی بلا روک ٹوک جاری ہیں۔
انہوں نے کہا بین الاقوامی برادری غزہ کو توجہ دے رہی ہے مگر مغربی کنارے کے فلسطینی بھی اسی طرح توجہ چاہتا ہے۔ تاکہ فلسطینیوں کی حالت میں بہتری ہو سکے۔ اس سلسے میں وزیر اعظم نے پڑوسی ملکوں اور بالخصوص سعودی عرب کی امداد کو سراہا۔
انہوں نے غزہ سے متعلق امور پر بات کرتے ہوئے کہا چیزیں اس قدر سادہ نہیں ہیں۔ جیسا کہ ہم سب کا اتفاق چیزوں کو درست سمت میں آگے لے جانے کے لیے ہے۔ اس لیے امید ہے کہ کامیابی ملے گی۔ مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ غزہ کی تعمیر نو اتنی سیدھی اور آسان نہیں ہے۔
اس سلسلے میں درپیش چیلنجوں میں یہ بھی شامل ہے کہ پڑوسی ممالک کی فلسطینیوں کے لیے حمایت کس قدر یقینی رہتی ہے۔ تاہم سعودی عرب اور فرانس کے ساتھ مل کر ہم پہلے سے ہی کام کر رہے ہیں۔