غزہ: مصری کمیٹی کے تین ارکان اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے
مصری کمیٹی کے واضح لوگو کے باوجود اسرائیل نے تینوں کارکنوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا
غزہ میں مصری کمیٹی کے ترجمان محمد منصور نے بدھ کے روز اسرائیلی فضائی حملے میں کمیٹی کی فیلڈ ٹیم کے تین ارکان کے مارے جانے کا اعلان کیا ہے۔ اس حملے میں ان کی گاڑی کو براہ راست اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ غزہ کی پٹی کے اندر انسانی ہمدردی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" اور "الحدث ڈاٹ نیٹ" کو دیے گئے خصوصی بیانات میں محمد منصور نے کہا کہ فضائی حملے میں ان تینوں کارکنوں کی گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ غزہ کی پٹی کے سب سے بڑے پناہ گزین کیمپ نتساریم کیمپ کی تیاری کے لیے جا رہے تھے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیم روزانہ اپنے معمول کے کاموں کو انجام دینے جاتی ہے لیکن اسرائیلی فوج نے مصری کمیٹی کے واضح لوگو اور اس کے انسانی کام کی معروف نوعیت کے باوجود گاڑی کو نشانہ بنایا۔
سب سے اہم امدادی تنظیموں میں سے ایک
مصری کمیٹی کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ میں کام کرنے والی اہم ترین امدادی تنظیموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ کمیٹی خوراک اور طبی امداد کی فراہمی کی نگرانی کرتی ہے۔ نٹساریم کیمپ شیلٹر پروجیکٹ کو لاگو کرنے کے ساتھ، ایک منظم کمیونٹی کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جس میں انفراسٹرکچر، سروس سہولیات اور عارضی ہاؤسنگ یونٹس موجود ہیں۔
خیال رہے کمیٹی نے اس سے قبل غزہ کی پٹی میں تین بڑے رہائشی شہر "دار مصر" 1، 2 اور 3 کے نام سے جبالیا، زہرہ اور بیت لاھیا کے علاقوں میں تعمیر کیے تھے۔ یہ تین شہر موجودہ کشیدگی سے پہلے اور اس کے دوران تعمیر کیے گئے تھے۔ ان شہروں میں ہزاروں رہائشی یونٹس شامل ہیں جنہیں فلسطینی خاندانوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔