ہم نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی درخواست نہیں کی : ایرانی وزیر خارجہ

عراقچی نے گذشتہ چند دنوں کے دوران امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے کی تردید کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف کے ساتھ گذشتہ چند دنوں کے دوران کسی بھی قسم کے رابطے یا مذاکرات کی درخواست کی تردید کی ہے۔

عباس عراقچی نے آج بدھ کے روز سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "گذشتہ چند دنوں میں میرے اور وٹکوف کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہمیں مذاکرات کی کوئی درخواست موصول ہوئی ہے"۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف ثالث "مشاورت کر رہے ہیں" اور تہران کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل رواں ہفتے تہران نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے باوجود عباس عراقچی اور وٹکوف کے درمیان رابطہ چینل موجود ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اسی تناظر میں عباس عراقچی کا موقف تھا کہ واشنگٹن کو "دھمکیوں، مبالغہ آرائی اور غیر منطقی مطالبات سے دست بردار ہونا چاہیے، کیونکہ مذاکرات کے اپنے خاص اصول ہوتے ہیں"۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "مذاکرات برابر کی سطح پر، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کے حصول کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ اگر کوئی فریق طاقت کے زور پر یک طرفہ طور پر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے تو یہ ممکن نہیں ہے"۔ ایرانی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ "مذاکرات اور دھمکیاں ایک ساتھ نہیں چل سکتے، بات چیت ایسے حالات میں ہونی چاہیے جہاں دوسرا فریق دھمکیوں اور حد سے بڑھے ہوئے مطالبات کو ترک کر دے"۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب منگل کے روز امریکی بحریہ کا ایک بحری بیڑہ طیارہ بردار جہاز کی قیادت میں مشرق وسطیٰ پہنچا ہے، جہاں ایران نے کسی بھی حملے کا جواب دینے کے پختہ ارادے کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ تہران اب بھی مذاکرات کا خواہاں ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ "سینٹکوم" نے طیارہ بردار بحری جہاز "ابراہم لنکن" کی قیادت میں اسٹرائیک گروپ کے مشرق وسطیٰ کے علاقائی سمندروں میں پہنچنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس کے درست مقام کا انکشاف نہیں کیا گیا۔

ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ مداخلت کے حوالے سے متضاد اشارے دے رہے ہیں۔ پیر کے روز "axios" ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا "ہمارا ایک بڑا بحری بیڑہ ایران کے قریب موجود ہے، جو وینزویلا کے قریب موجود بیڑے سے بھی بڑا ہے"۔ اس طرح انہوں نے وینزویلا میں اپنی افواج کی اس فوجی کارروائی کی طرف اشارہ کیا جس کے نتیجے میں صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ "وہ (ایرانی) معاہدہ کرنا چاہتے ہیں ... میں یہ جانتا ہوں ... انہوں نے کئی بار رابطہ کیا ہے۔ وہ بات چیت چاہتے ہیں"۔

اسی حوالے سے مذکورہ ویب سائٹ نے ایک اعلیٰ امریکی عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ "اگر وہ ہم سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں، تو وہ شرائط جانتے ہیں، ہم بات چیت کریں گے"۔ ویب سائٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کی ٹیم کی جانب سے پیش کردہ آپشنز پر بحث کرنے یا اپنی ترجیح بتانے سے انکار کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان آپشنز میں فوجی تنصیبات پر حملے یا قیادت بشمول سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں شامل ہیں۔

علاوہ ازیں، "نیویارک ٹائمز" اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو متعدد امریکی انٹیلی جنس رپورٹس موصول ہوئی ہیں جو "اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ایرانی حکومت کا موقف کمزور ہو رہا ہے" اور اقتدار پر ان کی گرفت اب "بد ترین صورتحال" میں ہے۔ دوسری طرف، گذشتہ چند دنوں کے دوران ایرانی حکام جلتی پر تیل ڈالنے سے گریز کرتے ہوئے محتاط نظر آ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں