شام کے صوبے لاذقیہ میں خواتین ورکرز کے میک اپ پر پابندی، نئی بحث چھڑ گئی
سوشل میڈیا پر صارفین نے ذاتی آزادیوں پر پابندیاں لگنے کے خدشات کا اظہار کیا
شام میں صوبہ لاذقیہ کی جانب سے سرکاری اوقات کے دوران خواتین ورکرز کے میک اپ کرنے پر پابندی کے فیصلے نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے اور بہت سے لوگ ذاتی آزادیوں پر پابندی لگنے کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران صارفین نے لاذقیہ کے گورنر سے منسوب ایک سرکلر کا نسخہ شیئر کیا ہےجس میں تمام سرکاری اداروں اور بلدیات کی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ تمام خواتین ملازمین کو مطلع کریں کہ وہ سرکاری اوقات کار کے دوران حتمی طور پر میک اپ نہ کریں۔ سرکلر میں کہا گیا کہ اس ہدایت پرعمل نہ کرنے کی صورت میں انہیں قانونی جوابدہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سوشل میڈیا صارف ریم ترک نے فیس بک پر گورنر سے سوال کیا کہ آپ کس قانون کی کس دفعہ کے تحت کسی خاتون ورکر کا محاسبہ کریں گے کیونکہ اس نے میک اپ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ لوگ مضحکہ خیز ہیں، اس قدر مضحکہ خیز کہ دکھ ہوتا ہے۔
بہت سے لوگوں نے اس سرکلر کے متن پر ذاتی آزادیوں میں مداخلت کے طور پر تنقید کی اور اس کے جاری ہونے کے ایسے وقت کا تمسخر اڑایا جب شامی عوام روزمرہ کے چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ دیگر نے یہ کہہ کر اس کا دفاع بھی کیا کہ یہ کام کی جگہ پر لباس اور ظاہری وضع قطع کے آداب کے زمرے میں آتا ہے۔
تنقید کی لہر کے بعد صوبہ لاذقیہ نے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ اس سرکلر کا مقصد کسی بھی طبقے پر ایسی سختی کرنا یا ان ذاتی آزادیوں کو نقصان پہنچانا نہیں ہے جن کا تحفظ آئین اور قانون فراہم کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ تاکید کا تعلق پابندی سے نہیں بلکہ پیشہ ورانہ ظاہری شکل کو منظم کرنے اور آرائشی اشیاء کے مبالغہ آمیز استعمال سے بچنے سے ہے۔ اس ہدایت کا مقصد یہ ہے کہ ذاتی آزادی اور سرکاری کام کے ماحول کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم کیا جا سکے۔
جابر قاسم نے فیس بک کے ذریعے گورنر سے مخاطب ہو کر کہا کہ "کیا آپ نے لاذقیہ کے تمام مسائل حل کر لیے ہیں اور آپ کے پاس خواتین کے میک اپ کے علاوہ کچھ باقی نہیں بچا؟" میک اپ پر پابندی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب شامی عوام 13 سال سے زیادہ کے تباہ کن تنازعے ، جو دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے پر ختم ہوا، کے بعد اب بھی ابتر معاشی حالات اور سرکاری سہولیات کی ناقص صورتحال کا شکار ہیں۔
بین الاقوامی برادری نے بارہا نئی اتھارٹی پر زور دیا ہے کہ وہ تمام آزادیوں کا احترام کرے، اقلیتوں کا تحفظ کرے اور عبوری مرحلے کے انتظام میں تمام طبقات اور خواتین کو شامل کرے۔ اس دوران حکام بھی حکمرانی کا ایک ایسا نمونہ پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کشادگی اور لچک کا حامل ہو۔
میک اپ پر پابندی ان فیصلوں اور واقعات کے سلسلے کے بعد سامنے آئی ہے جنہوں نے کثیر مذہبی اور سماجی پس منظر والے ملک میں خدشات پیدا کردیے ہیں۔ ان فیصلوں میں سے ایک فیصلہ گزشتہ ہفتے کے روز دمشق کے مضافات میں التل شہر کی میونسپلٹی نے جاری کیا تھا جس میں مردوں کو خواتین کے ملبوسات کی دکانوں پر کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ رواں برس جون میں حکام نے ساحلوں اور عوامی سوئمنگ پولز پر لباس کے قواعد کو ضبط کرنے کے لیے ہدایات جاری کی تھیں جس میں زائرین سے زیادہ باحیا لباس پہننے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ایک خاتون صارف دیما خشیف نے بدھ کو فیس بک پر لکھا کہ لاذقیہ کے گورنر کا لاذقیہ کے ریاستی اداروں میں میک اپ پر پابندی کا فیصلہ کوئی انتظامی نظم و ضبط نہیں ہے۔ یہ ذاتی آزادی اور بنیادی طور پر خواتین کی آزادی میں براہ راست مداخلت ہے۔