اسرائیل کا دونوں طرف سے رفح کراسنگ اتوار کو کھولنے کا اعلان

محدود نقل و حرکت کی اجازت، تعارفی طریقہ کار اور ابتدائی جانچ پڑتال یورپی یونین کا مشن انجام دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ رفح کراسنگ کو آئندہ اتوار یکم فروری کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس نے ایک بیان میں مزید کہا کہ آپریشن جزوی طور پر اور دونوں طرف سے ہوگا جو صرف لوگوں کی محدود نقل و حرکت کے لیے ہوگا اور یہ جنگ بندی کے معاہدے اور سیاسی سطح کی ہدایات کے مطابق ہوگا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مصر کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے رہائشیوں کو رفح کراسنگ سے نکلنے اور داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ اسرائیل کی طرف سے رہائشیوں کے لیے پیشگی سکورٹی کلیئرنس حاصل کرنے کے بعد اور یورپی یونین کے مشن کی نگرانی میں آمد و رفت ہوگی ۔ بالکل اسی طریقہ کار کی طرح جو جنوری 2025 میں لاگو کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ مصر سے غزہ کی پٹی میں رہائشیوں کی واپسی صرف مصری ہم آہنگی کے ساتھ ان لوگوں کے لیے ممکن ہوگی جنہوں نے جنگ کے دوران غزہ چھوڑا تھا اور یہ بھی اسرائیل سے پہلے سے سکیورٹی کلیئرنس حاصل کرنے کے بعد ہوگا۔ مزید برآں رفح کراسنگ پر شناخت اور ابتدائی جانچ کے طریقہ کار یورپی یونین کے مشن کی جانب سے انجام دیے جائیں گے۔ اس راہداری پر اضافی جانچ اور شناخت کا عمل اسرائیلی فوج کے کنٹرول والے علاقے میں سکیورٹی سسٹم کے ذریعے کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت حماس کی جانب سے جمعہ کو غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے ثالثوں سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے مطالبے کے بعد سامنے آئی ہے تاکہ مصر کے ساتھ رفح کراسنگ کو کھولا جائے۔ رفح کراسنگ پٹی کے رہائشیوں کے لیے بیرونی دنیا کا واحد راستہ ہے۔ حماس نے ایک بیان میں کہا کہ وہ جارحیت کو روکنے کے لیے سنجیدہ دباؤ اور فوری طور پر دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس مرحلے میں رفح کراسنگ کو دونوں طرف سے کھولنا اور تباہ شدہ غزہ کی پٹی میں نیشنل کمیٹی کو کام کرنے کے قابل بنانا شامل ہے۔

اہل غزہ کی تکالیف کم کرنے کے عالمی مطالبات

یاد رہے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے جمعرات کو اسرائیل اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ کے حوالے سے اختلافات کی موجودگی کی تردید کی تھی۔ نیتن یاہو کے دفتر کے ترجمان ہانی مرزوق نے "العربیہ/ الحدث" کو بتایا کہ رفح کراسنگ کے حوالے سے مصر کے ساتھ کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ دونوں فریق کچھ تفصیلات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ مرزوق نے یہ بھی واضح کیا کہ اس وقت غزہ کی پٹی میں کافی غذائی اور انسانی امداد داخل ہو رہی ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کی صدر نے جمعہ کو اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر کے ممالک کو غزہ کے لوگوں کی تکالیف کم کرنے کے لیے کوششیں تیز کرنی چاہئیں اور جنگ بندی کے پہلے مرحلے سے حاصل ہونے والی رفتار کو آگے بڑھانا چاہیے۔

مریانا سپولیارک نے ایک بیان میں کہا کہ ریاستوں کو اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے کے پہلے مرحلے سے حاصل ہونے والی رفتار کا فائدہ اٹھانا چاہیے اور غزہ میں ابتر انسانی حالات کو بہتر بنانے کے لیے فوری طور پر اقدام کرنا چاہیے۔ غزہ میں لاکھوں فلسطینی، جو دو سال تک پٹی پر اسرائیلی حملوں سے انتہائی خستہ حال ہو چکے تھے، طویل عرصے تک اپنی نقل و حرکت پر پابندیوں اور اسرائیلی نگرانی کے اداروں کی جانب سے اپنی انٹرنیٹ سرگرمیوں اور فون کالز کی مانیٹرنگ کا سامنا کرتے رہے ہیں،

غزہ کے تقریباً تمام 20 لاکھ باشندے ایک تنگ ساحلی پٹی میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت اسرائیلی افواج پیچھے ہٹ گئی تھیں۔ ٹرمپ کے منصوبے کے دوسرے مرحلے میں رفح سے پٹی کی تعمیرِ نو شروع کرنے اور حماس کے ہتھیار ڈالنے کے بدلے پٹی سے مزید اسرائیلی افواج کے انخلاء کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں