صرف تجرباتی بنیادوں پر ... رفح گزرگاہ کو فعال کرنے کے لیے تکنیکی انتظامات مکمل

مسافروں کی فہرستوں کی نگرانی عالمی ادارہ صحت کر رہا ہے جس میں اسے فلسطینی وزارتِ صحت کا تعاون حاصل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

العربیہ کے نمائندے نے آج ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ کل اتوار کو رفح گزرگاہ کو تجرباتی بنیادوں پر فعال کرنے کے لیے تمام تکنیکی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ سفر کے لیے با ضابطہ کام پیر سے شروع ہو گا۔

معلومات کے مطابق، مسافروں کی فہرستوں کی نگرانی عالمی ادارہ صحت (WHO) فلسطینی وزارتِ صحت کے تعاون سے کر رہا ہے۔ غزہ کی انتظامیہ کے لیے قائم قومی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ گزرگاہ کو چلانے سے متعلق تمام متعلقہ فریقین کے درمیان ضروری انتظامات مکمل ہونے کے بعد، پیر سے اسے دونوں طرف سے کھول دیا جائے گا۔ کل اتوار کا دن کام کرنے کے طریقہ کار کو جانچنے کے لیے تجرباتی طور پر مختص ہوگا۔

دوسری جانب، مستقبل میں کام کرنے کے طریقہ کار اور سفر کے لیے شامل زمروں میں توسیع کے امکان پر پیش رفت جاری ہے، بشرطیکہ یہ عمل آسانی سے چلتا رہے۔ غزہ کی انتظامیہ کے سربراہ علی شعث نے گذشتہ روز جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ رفح گزرگاہ کا با ضابطہ افتتاح پیر، 2 فروری 2026 سے ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتوار یکم فروری کا دن کام کے طریقہ کار کو جانچنے کا دن ہو گا۔
یہ پیش رفت اسرائیلی فوج کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ رفح گزرگاہ اتوار یکم فروری کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ گزرگاہ وقفہِ جنگ کے معاہدے اور سیاسی قیادت کی ہدایات کے مطابق جزوی طور پر دونوں طرف سے صرف محدود نقل و حرکت کے لیے کھولی جائے گی۔

بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ مصر کے ساتھ کوآرڈینیشن کے ذریعے شہریوں کے داخلے اور اخراج کی اجازت ہوگی، تاہم اس کے لیے اسرائیل سے پیشگی سکیورٹی کلیئرنس حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ یہ سارا عمل یورپی یونین کے مشن کی نگرانی میں ہو گا، بالکل اسی طرح جیسے جنوری 2025 میں کیا گیا تھا۔ مصر سے غزہ کی پٹی میں ان شہریوں کی واپسی بھی مصری کوآرڈینیشن سے ممکن ہوگی جو جنگ کے دوران وہاں سے نکل گئے تھے، مگر ان کے لیے بھی اسرائیل کی پیشگی سکیورٹی منظوری لازمی ہوگی۔ اس کے علاوہ، رفح گزرگاہ پر یورپی یونین کا مشن شناخت اور ابتدائی جانچ کرے گا، جبکہ اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول علاقے میں سکیورٹی سسٹم کے ذریعے اضافی تلاشی اور شناخت کا عمل بھی کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ غزہ کی پٹی میں رہنے والے لاکھوں فلسطینی، جو دو سال سے جاری اسرائیلی حملوں سے نڈھال ہیں، طویل عرصے تک نقل و حرکت پر پابندیوں اور اسرائیلی ایجنسیوں کی نگرانی کا شکار رہے ہیں۔ اب تقریباً 20 لاکھ آبادی ایک تنگ ساحلی پٹی میں رہنے پر مجبور ہے، جہاں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں ہونے والے وقفہِ جنگ کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت اسرائیلی افواج پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ اب دوسرے مرحلے کا انتظار ہے جس کے تحت رفح سے تعمیرِ نو کا آغاز ہو گا اور حماس تنظیم کے ہتھیار ڈالنے کے بدلے مزید اسرائیلی افواج کا انخلاء عمل میں آئے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں