واشنگٹن کو ایران کی میزائل صلاحیتوں سے خبردار کر دیا گیا: رپورٹ

مغربی عہدیدار کا نظام کے ہولناک خاتمے کے خدشات کا اظہار، دھمکیوں کے ردعمل میں ایران میں لوگوں میں اتحاد بڑھ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

خفیہ رپورٹس اور مغربی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ خطے کے ملکوں میں ایران کی اس صلاحیت کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ وہ خطے میں امریکی مفادات کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ شدید فوجی طاقت کے ذریعے دباؤ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

گزشتہ جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ تصادم کے دوران ایرانی میزائل پروگرام کو پہنچنے والے نقصانات کے باوجود واشنگٹن کے اتحادی علاقائی ممالک کے ایک جائزے میں کہا گیا ہے کہ پروگرام کے بنیادی عناصر اب بھی محفوظ ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے مغربی حکام نے بتایا کہ تہران نے اہم میزائل صلاحیتوں کو دوبارہ تعمیر کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے، خاص طور پر دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں موجود میزائل صلاحیتوں کو نشانہ بنانا مشکل ہے۔ اسی تناظر میں سابق ایرانی سفارت کار امیر موسوی نے کہا ہے کہ تہران نے جون کی جنگ کے بعد میزائلوں کی پیداوار دگنی کر دی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ہزاروں میٹر بلند پہاڑی قلعے ان صلاحیتوں تک رسائی مشکل بنا دیتے ہیں۔

ذرائع نے کہا کہ تہران نے واشنگٹن کے اتحادیوں کو ڈھکے چھپے پیغامات بھیجے ہیں کہ مستقبل کا کوئی بھی انتقامی ردعمل قطری اڈے العدید پر حملے کی طرح محض علامتی یا نپا تلا نہیں ہوگا، بلکہ یہ مہلک صورت اختیار کر سکتا ہے اور خلیج میں پھیلے ہوئے ان امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے جہاں دسیوں ہزار فوجی موجود ہیں۔ دوسری جانب ماہر ڈیوڈ ڈیس روش نے واضح کیا کہ ایران کے پاس اتنے زیادہ میزائل موجود ہیں جو خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے فضائی دفاعی نظام سے کہیں زیادہ ہیں ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان دفاعی نظاموں کو ڈبویا جا سکتا ہے جن میں باہمی ربط اور ہم آہنگی کی کمی ہے۔

سیاسی طور پر اخبار نے ایک ایرانی سفارت کار کے حوالے سے بتایا کہ فوجی خطرے کے سائے میں کسی بھی مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا گیا ہے اور ٹرمپ کی شرائط کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا گیا ہے۔ یورپی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکی دباؤ نے ایرانی نظام کی صفوں کو متحد کرنے اور ان اندرونی اختلافات کو ختم کرنے میں مدد دی ہے۔ اب تہران سے ایک ہی متحدہ پیغام آ رہا ہے کہ "ہم بھرپور جنگ کے لیے تیار ہیں"۔

علاقائی موقف کے حوالے سے ایک مغربی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ خطے کے ممالک اب جارحانہ فوجی اقدامات سے خود کو دور کر رہے ہیں۔ ان ملکوں نے واشنگٹن کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے اپنی سرزمین یا فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دیں گے۔

رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ واشنگٹن کے اتحادی، نظام کے بتدریج خاتمے کی خواہش کے باوجود اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ کسی بھی امریکی حملے کے نتیجے میں نظام اچانک اور ہولناک طریقے سے گر سکتا ہے جو خطے کو مکمل اور بے لگام افراتفری میں دھکیل دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بحران کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں