امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی امید کا اظہار کردیا۔ اسی دوران پینٹاگون ان اڈوں پر فضائی دفاعی نظام نصب کر رہا ہے جہاں امریکی افواج تعینات ہیں۔ امریکی حکام نے امریکی ویب سائٹ "ایکسیوس" کو بتایا ہے کہ ٹرمپ اب بھی ایران کے ساتھ سفارت کاری کے لیے تیار ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ کے بیانات محض کوئی چال نہیں ہیں۔ امریکی حکام نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے سفارت کاروں کو معاہدہ کرنے کی اجازت دیں۔
ویب سائٹ "ایکسیوس" نے انکشاف کیا ہے کہ ثالث رواں ہفتے انقرہ میں امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانیوں کے درمیان ملاقات کرانے پر کام کر رہے ہیں۔ ادھر دو امریکی حکام نے خبر رساں ادارے "رائٹرز" کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران جمعہ کو امریکی وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر میں امریکی اور اسرائیلی افواج کے اعلیٰ حکام کا اجلاس ہوا۔
امریکی اڈوں پر فضائی دفاعی نظام مضبوط کیا جارہا
امریکی اخبار ’’ وال سٹریٹ جرنل ‘‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ ایران کی جانب سے کسی بڑے حملے کے پیش نظر اپنے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط کر رہا ہے۔ اخبار نے روسی ایجنسی "تاس" کے حوالے سے بتایا کہ اگر صدر ٹرمپ ایران کے خلاف فیصلہ کن حملےکا حکم دیتے ہیں تو اس سے ایران کی جانب سے متناسب ردعمل آ سکتا ہے جس کے لیے اسرائیل، امریکی اتحادیوں اور خطے میں موجود افواج کی حفاظت کے لیے فضائی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانا ضروری ہے۔
امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) امریکی افواج کے اڈوں پر اضافی "تھاڈ" (THAAD) میزائل دفاعی نظام اور کئی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام تعینات کرنے پر کام کر رہی ہے۔ اخبار نے امریکی انتظامیہ کے حکام کے حوالے سے بتایا کہ مستقبل قریب میں واشنگٹن کے حملوں کا امکان کم ہے۔ تاہم اخبار نے یہ بھی کہا کہ اگر صدر ٹرمپ نے حملے کا حکم دیا تو امریکی فوج ایران کے خلاف محدود حملے کر سکتی ہے۔ اخبار نے توجہ دلائی کہ وائٹ ہاؤس نے ابھی تک یہ ظاہر نہیں کیا کہ آیا صدر ایران کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا وہ ایسا کیسے کریں گے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی "تسنیم" نے اتوار کو ایرانی رہنما علی خامنہ ای کا بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ان کے ملک پر حملہ کیا تو یہ حملہ علاقائی تصادم میں بدل جائے گا۔ خامنہ ای نے کہا کہ امریکیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر انہوں نے جنگ شروع کی تو اس بار یہ علاقائی سطح کی جنگ ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام کو مشرق وسطیٰ میں بھاری ہتھیاروں کی تعیناتی کے حوالے سے ٹرمپ کے بیانات سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ ایرانی سپیریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مزید کہا کہ ہم جنگ شروع نہیں کرتے اور نہ ہی کسی ملک پر حملہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن ایرانی عوام ہر اس شخص کو منہ توڑ جواب دیں گے جو جارحیت کرے گا یا ہمیں نقصان پہنچائے گا انہوں نے جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کو بغاوت کی کوشش بھی قرار دیا۔
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے بھی اخبار ’’ لیبریشن ‘‘کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران کو اپنی سرزمین پر ممکنہ امریکی حملوں سے بچنے کے لیے سفارتی مذاکرات کے فریم ورک کے اندر بڑی مراعات قبول کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے خود کو ایسی پوزیشن میں کھڑا کر لیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن شروع کر سکتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے ایک مذاکراتی راستہ بھی پیش کیا ہے جسے ایرانی حکومت کو اپنانا چاہیے اور اپنے رویے میں بنیادی تبدیلی لانی چاہیے۔
-
معاہدہ کرو ورنہ طاقت کا استعمال کیا جائے گا: واشنگٹن کی ایران کو سخت وارننگ
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی تعداد تقریباً 50 ہزار تک پہنچ گئی
مشرق وسطی -
ایران نے آئی آر جی سی کی نامزدگی کے بعد یورپی افواج کو ’دہشت گرد گروپ‘ قرار دے دیا
ایران نے یورپی ممالک کی افواج کو "دہشت گرد گروپ" قرار دے دیا ہے، ملک کی پارلیمنٹ ...
مشرق وسطی -
خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے قطر کے وزیرِ خارجہ کی ایرانی سفارت کار سے ملاقات
قطری وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز بتایا کہ ملک کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ ...
مشرق وسطی