رفح کراسنگ پر مسلسل اسرائیلی پابندیاں، ایک ہفتے میں صرف 225 مسافروں کی آمد و رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ میں قائم سرکاری میڈیا دفتر نے منگل کے روز اطلاع دی ہے کہ رفح کراسنگ پر عائد مسلسل پابندیوں کے باعث رواں ماہ کی 2 تاریخ سے 9 تاریخ کے درمیان صرف 225 مسافروں نے سرحد پار کی۔

میڈیا دفتر نے ایک بیان میں واضح کیا کہ اسی مدت کے دوران غزہ پہنچنے والے افراد کی تعداد 172 رہی جبکہ 26 مسافروں کو سفر سے روک کر واپس بھیج دیا گیا۔ بیان میں مزید بتایا گیا کہ سفر کرنے والوں میں اکثریت مریضوں اور ان کے تیمارداروں کی تھی۔

محدود سفری سہولیات

رپورٹ کے مطابق سفری سرگرمیاں صرف چند مخصوص ایام تک محدود رہیں جبکہ جمعہ اور ہفتہ کے روز کراسنگ مکمل طور پر بند رہی۔ بیان میں نشاندہی کی گئی کہ مجموعی طور پر آنے اور جانے والے مسافروں کی تعداد محض 397 رہی، حالانکہ اس مدت میں تقریبا 1600 افراد کا سفر طے تھا۔

رفح کراسنگ اور سکیورٹی صورتحال

غزہ کو مصر سے ملانے والی رفح بری کراسنگ مئی سنہ 2024 میں جنگ کے دوران اسرائیلی افواج کے فلسطینی حصے پر قبضے کے بعد سے تقریبا مکمل بندش کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں کراسنگ کا کام مکمل طور پر ٹھپ ہو گیا تھا۔

نامہ نگاروں کے مطابق رواں سال فروری کے آغاز میں کراسنگ کو جنگ بندی کے معاہدوں اور بین الاقوامی سرپرستی میں دوبارہ کھولا گیا، تاہم یہ تاحال محدود ہے اور سخت سکیورٹی شرائط کے تحت کھولی جا رہی ہے۔ ان پابندیوں کی وجہ سے سفر کے لیے رجسٹرڈ ہزاروں افراد، بالخصوص انتظار کی فہرست میں شامل مریضوں اور زخمیوں کے لیے غزہ سے نکلنا یا واپس آنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔

انسانی بحران اور سفری رکاوٹیں

غزہ کے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ کراسنگ کا موجودہ جزوی افتتاح مہینوں سے جمع شدہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ نقل و حرکت پر عائد پابندیوں اور انسانی صورتحال کی ابتری کے باعث مذکورہ مدت کے دوران سفری شیڈول پر عمل درآمد کی شرح صرف 25 فیصد رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں