انڈونیشیا کا غزہ میں استحکام فورس کے لیے تقریبا 8000 فوجی بھیجنے پر غور

اگرچہ فوج بھیجنے کی ابھی با ضابطہ منظوری نہیں ملی، لیکن اس کی تربیت کا آغاز پہلے ہی کر دیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

انڈونیشیا کے آرمی چیف جنرل مارولی سیمانجونتاک نے اعلان کیا ہے کہ انڈونیشی حکام غزہ کی پٹی میں صورت حال کے حل کے لیے امن مشن کے طور پر 8000 تک فوجی تعینات کر سکتے ہیں۔

انڈونیشی اخبار "ٹیمپو" کے مطابق جنرل نے کہا کہ "ممکنہ طور پر ایک بریگیڈ تعینات کی جائے گی جس کی تعداد 5000 سے 8000 کے درمیان ہو سکتی ہے، تاہم ابھی اس پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور یہ تعداد حتمی نہیں ہے"۔ مارولی نے مزید بتایا کہ اگرچہ فوج بھیجنے کی ابھی با ضابطہ منظوری نہیں ملی، لیکن اس کی تربیت کا آغاز پہلے ہی کر دیا گیا ہے۔

برطانوی اخبار "فنانشل ٹائمز" کے مطابق انڈونیشی فوج اس "عالمی استحکام فورس" کا حصہ بنے گی جس کا مطالبہ امریکی انتظامیہ کر رہی ہے۔ اخبار کے ایک ذریعے نے بتایا کہ ان افواج کی تعیناتی غزہ کی پٹی کے ان علاقوں میں کی جائے گی جو اسرائیلی کنٹرول میں ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی سرکاری چینل "کان" نے بھی استحکام مشن کے لیے غزہ کی پٹی میں انڈونیشی فوجی بھیجنے کے منصوبوں کی اطلاع دی تھی۔

ستمبر 2025 میں انڈونیشیا کے صدر برابوو سوبیانتو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران غزہ کی پٹی میں امن کے قیام کے لیے 20 ہزار فوجی بھیجنے کی آمادگی ظاہر کی تھی۔

اکتوبر 2025 میں اسرائیل اور حماس تنظیم کے درمیان مصر، قطر، امریکہ اور ترکیہ کی ثالثی میں امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق ہوا تھا، اس کے بعد غزہ کی پٹی میں جنگ بندی نافذ ہو گئی تھی۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج نام نہاد "یلو لائن" تک پیچھے ہٹ گئی تھیں، تاہم وہ اب بھی غزہ کی پٹی کے 50 فیصد سے زائد علاقے پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ 13 اکتوبر کو حماس تنظیم نے 20 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا اور 28 میں سے چار کی باقیات حوالے کیں، جبکہ 26 جنوری کو اسرائیلی فوج نے قیدیوں کی فہرست میں موجود آخری اسرائیلی کی باقیات بھی غزہ کی پٹی سے واپس حاصل کر لی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں