غزہ میں اسرائیلی حملوں میں تین افراد ہلاک ہو گئے: ہسپتال ذرائع
رفح راہداری کے معاملات میں کسی قدر بہتری
غزہ شہر کے مغرب میں سوموار کے روز اسرائیلی فوج کے حملے میں تین افراد ہلاک ہو گئے، ہسپتال ذرائع نے بتایا جہاں زخمیوں کو لے جایا گیا۔
الشفاء ہسپتال نے مہینوں پرانی جنگ بندی کے دوران جاری ہلاکتوں کی اطلاع دی۔ فوج نے کہا، ہم اہداف کو "ایک درست انداز میں" نشانہ بنا رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ عہدیدار کو اسرائیلی فیصلے پر تشویش
اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے پر ملک کا کنٹرول مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ عہدیدار نے پیر کے روز تشویش کا اظہار کیا۔
سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے ایک بیان میں کہا، وہ اس پر "نہایت فکرمند" ہیں اور انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فیصلہ دو ریاستی حل کے امکانات ختم کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، "ایسے اقدامات بشمول مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی مسلسل موجودگی نہ صرف عدم استحکام کا باعث بلکہ غیر قانونی ہیں – اور بین الاقوامی عدالت انصاف نے بھی یہی قرار دیا ہے۔"
مغربی کنارے پر اسرائیل کا کنٹرول مزید مضبوط کرنے کے حوالے سے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ بیزلل سماٹریچ نے کہا ہے کہ ان اقدامات سے یہودی آبادکاروں کے لیے فلسطینیوں کو زمین چھوڑنے پر مجبور کرنا آسان ہو جائے گا۔ نیز کہا، "ہم فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کرتے رہیں گے۔"
رفح راہداری کے معاملات میں بہتری آ رہی ہے: عہدیدار
غزہ میں روزمرہ امور کی نگرانی کرنے والے فلسطینی اہلکار نے پیر کے روز کہا کہ مصر سے متصل رفح راہداری کے ذریعے آمد و رفت میں پہلے ہفتے میں ابتری، تاخیر اور لوگوں کی تعداد محدود رہی لیکن اب بہتری آنا شروع ہو گئی ہے۔
غزہ کی قومی کمیٹی برائے انتظامات کے سربراہ علی شعث نے مصر کے القاہرہ نیوز کو بتایا کہ اتوار کو راہداری کی کارروائیوں میں بہتری آئی۔ پیر کے روز 88 فلسطینیوں کو رفح کے راستے سفر کرنا تھا جو دوبارہ کشادگی کے ابتدائی دنوں میں گذرنے والے افراد کی تعداد سے زیادہ ہے۔ اسرائیل نے فوری طور پر ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کی۔
راہداری پر یورپی یونین کے سرحدی مشن نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ دوبارہ کشادگی کے بعد سے 284 فلسطینی سفر کر چکے ہیں۔ مسافروں میں جنگ سے فرار ہونے کے بعد واپس آنے والے افراد اور طبی علاج کے لیے جانے والے اور ان کے لواحقین شامل تھے۔ مجموعی طور پر ابتدائی پانچ دنوں کے دوران 53 افراد علاج کے لیے روانہ ہوئے۔
اسرائیلی، مصری، فلسطینی اور بین الاقوامی حکام نے طبی علاج کے لیے جانے والے 50 افراد اور روزانہ واپس آنے والے 50 افراد کا ہدف مقرر کیا تھا جس سے یہ تعداد بہت کم ہے۔
شعث اور کمیٹی کے دیگر ارکان مصر میں ہی موجود ہیں کیونکہ انہیں اسرائیل نے جنگ زدہ علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔
فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ تقریباً 20,000 افراد غزہ چھوڑنے کے لیے خواہاں ہیں کیونکہ وہاں تباہ شدہ نظامِ صحت میں طبی امداد اور سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔
ابتدائی دنوں میں غزہ واپس آنے والے فلسطینیوں نے اسرائیلی حکام اور اسرائیلی حمایت یافتہ فلسطینی مسلح گروپ ابو شباب کی طرف سے گھنٹوں کی تاخیر اور نامناسب جامہ تلاشی کی شکایات کیں۔ تاہم اسرائیل نے ناروا سلوک کی تردید کی۔
غزہ کی وزارتِ صحت نے پیر کو کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانچ افراد ہلاک ہوئے جس سے اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد سے ہلاکتوں کی تعداد 581 ہو گئی۔ یاد رہے کہ اسرائیل کے فوجی مظالم میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔