اسرائیلی صدر کا اظہارِ امید: امریکہ اسرائیل مذاکرات ایران کی 'بدی کی سلطنت' کمزور کر سکتے
آج امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کی ملاقات طے شدہ ہے
اسرائیل کے صدر اسحاق ہرتصوغ نے بدھ کو یہ امید ظاہر کی ہے کہ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان آج دن کے اواخر میں واشنگٹن میں ہونے والی گفتگو سے ایران کی "بدی کی سلطنت" سے لڑنے میں مدد ملے گی۔
ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے نیتن یاہو کا یہ امریکہ کا چھٹا دورہ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ امریکی رہنما پر زور دیں گے کہ وہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر سخت گیر مؤقف اختیار کریں۔
وائٹ ہاؤس کی یہ عجلت میں ترتیب دی گئی ملاقات مقامی وقت کے مطابق صبح 11:00 بجے شروع ہو گی۔ ٹرمپ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ وہ شرقِ اوسط میں دوسرا امریکی "آرماڈا" (جنگی بحری دستہ) بھیجنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ ایٹمی معاہدہ طے کرنے کے لیے ایران پر دباؤ ڈالا جائے۔
کینبرا میں آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز سے بات کرتے ہوئے ہرتصوغ نے خواہش ظاہر کی کہ انہیں "امن قائم کرنے اور تہران سے نکلنے والی بدی کی اس سلطنت کو کمزور کرنے میں کامیابی ملے۔"
ہرتصوغ نے یہ بھی کہا کہ "غزہ منصوبے کا اگلا مرحلہ جو ہم سب کے لیے اہم ہے جس سے مجھے امید ہے کہ یہ ہم سب کے لیے ایک بہتر مستقبل لائے گا"، دونوں راہنما اس پر بات کریں گے۔
صدر اسحاق ہرتصوغ اس وقت آسٹریلیا کے دورے پر ہیں۔