امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کو دوبارہ خبردار کیا ہے کہ اگر سابق وزیراعظم نوری المالکی اقتدار میں واپس آئے تو بغداد کے لیے امریکی سپورٹ بند کی جا سکتی ہے۔
عراق کے سب سے بڑے سیاسی بلاک کی جانب سے نوری المالکی کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد کیے جانے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے گذشتہ ماہ سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ نوری المالکی کا انتخاب امریکی تعاون کے خاتمے کا سبب بنے گا، کیونکہ ان کے گذشتہ دورِ اقتدار نے عراق کو "غربت اور مکمل افراتفری" میں دھکیل دیا تھا۔
جمعہ کے روز صحافیوں کے سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ "ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ ہمارے پاس اس حوالے سے کچھ خیالات ہیں، لیکن آخر کار ہر کسی کو امریکہ کی ضرورت ہے۔"
دوسری جانب عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ نوری المالکی کی واپسی عراق کا داخلی معاملہ ہے اور اس کا فیصلہ عراقی عوام کو کرنا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بغداد امریکہ کے اشاروں کو "سنجیدگی سے لے رہا ہے"۔
واضح رہے کہ امریکی ذرائع پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ مستقبل کی عراقی حکومت میں ایران نواز دھڑوں کے نمائندوں کو شامل نہ کیا جائے۔ واشنگٹن نے سرکاری طور پر نوری المالکی کی نامزدگی کی مخالفت کی ہے۔
نوری المالکی کی عمر 75 برس ہے اور وہ 2006 سے 2014 کے درمیان دو بار عراق کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ ان کا دورِ اقتدار امریکی افواج کے انخلاء، فرقہ وارانہ بد امنی اور داعش کے قبضے جیسے واقعات کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کے دوسرے دور میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے جبکہ تہران کے ساتھ قربت بڑھی، یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انہیں ایک "برا انتخاب" قرار دیتے رہے ہیں۔
اگرچہ المالکی کی نامزدگی "کوارڈنیشن فریم ورک" نے کی ہے تاہم اطلاعات کے مطابق خود اس اتحاد کے اندر بھی اس نامزدگی پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔