ایک فلسطینی این جی او نے اسرائیل کی جانب سے انتقامی کارروائی کی مذمت کی ہے جب ایک ویڈیو میں انتہائی دائیں بازو کے وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر کی نگرانی میں فوجی جیل میں قیدیوں سے بدسلوکی ہوتے ہوئے دکھائی گئی۔
اسرائیل کے چینل سیون نے اطلاع دی کہ مسلمانوں کے مقدس ماہِ رمضان شروع ہونے سے چند روز قبل بین گویر نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اوفر جیل کا دورہ کیا۔
جمعے کو فلمائی گئی اور چینل پر نشر کردہ فوٹیج میں تقریباً 20 پولیس افسران جیل کی کوٹھریوں کی طرف جانے والے ایک دالان پر حملہ کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے ہتھیاروں کی نمائش کرتے اور دستی بم چلاتے ہیں۔
اس کے بعد وہ پانچ قیدیوں کو ان کی کوٹھریوں سے کھینچ کر نکالتے ہیں جن کے ہاتھ ان کی پشت پر بندھے ہیں اور انہیں فرش پر منہ کے بل گرا دیا جاتا ہے۔
یہ کارروائی اس وقت ہوئی جبکہ دہشت گردی کے مرتکب فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے بل پر اسرائیلی پارلیمنٹ میں حتمی رائے شماری کا انتظار ہے۔
پالسٹین پرسنرز کلب کے سربراہ عبداللہ الزغاری نے ہفتے کے روز اے ایف پی کو بتایا، "یہ ان تمام باتوں کا حصہ ہے جن کا مقصد فلسطینیوں سے بدلہ لینا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "بین گویر اور انتہائی دائیں بازو کی حکومت جو بھی کر رہی ہے، اس کا اثر نہ صرف فلسطینی عوام اور حراستی کیمپوں میں موجود قیدیوں پر بلکہ عالمی قانونی اور انسانی حقوق کے نظام پر بھی ہوتا ہے۔"
"ایسی جیل میں پہنچنا جو دہشت گردوں کے لیے، بدترین لوگوں کے لیے ہے اور انہیں اس طرح دیکھنا، یہ محض فخر کا باعث ہے،" بین گویر نے ویڈیو میں کہا۔
"میں ایک اور چیز چاہتا ہوں: انہیں پھانسی دینا - دہشت گردوں کے لیے سزائے موت ہونی چاہیے،" انہوں نے مزید کہا۔
فلسطینی تحریک حماس نے ہفتے کے روز کہا، یہ تبصرے "ایک نئے جنگی جرم اور قیدیوں سے متعلق بین الاقوامی انسانی قانون کے لیے ایک کھلا چیلنج ہیں۔"
بین الاقوامی حقوق کے گروپوں نے سات اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی جیلوں میں مبینہ بدسلوکی اور زیادتی کے بارے میں بارہا خبردار کیا ہے۔
اسرائیل میں بہت کم جرائم کے لیے سزائے موت موجود ہے۔ نازی ہولوکاسٹ کا مجرم ایڈولف ایچ مین 1962 میں سزائے موت پانے والا آخری شخص تھا۔