پاکستان سمیت سات مسلم ممالک کی غرب اردن میں اسرائیل کے متنازع اقدامات کی مذمت

وزارت خارجہ پاکستان کی طرف سے منگل کو جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں دو ریاستی حل کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

پاکستان، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت آٹھ ملکوں نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کو اپنا حصہ بنانے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ آٹھ ملکوں نے اسرائیلی فیصلے کی مذمت پر مبنی بیان منگل کے روز جاری کیا ہے۔

وزارت خارجہ پاکستان کی طرف سے منگل کو جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں دو ریاستی حل کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

بیان میں اسرائیلی فیصلے کو غیر قانونی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کشیدگی کو سنگین تر کرنے اور ناجائز یہودی بستیوں کی تعمیر میں اضافہ کرنے کے علاوہ مغربی کنارے کے غیر قانونی انضمام کے لیے کیا گیا ہے۔

اس اقدام سے فلسطینی علاقے پر اسرائیلی تسلط مزید بڑھے گا۔ جس کے نتیجے میں مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیل کے غیر قانونی اقتدار کا اطلاق ہو۔ جبکہ فلسطینیوں کے جائز حقوق بشمول حق خود ارادیت متاثر ہو گا۔

ان تمام ممالک نے اپنے مشترکہ بیان میں اپنے فلسطینی علاقوں کے بارے میں دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں اسرائیلی اقدمات کو مسترد کیا ہے۔ نیز کہا ہے کہ اس راستے سے علاقے میں فلسطینی آبادی کے تناسب اور فلسطینی سرزمین کے تاریخی حقائق کو بدلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ کیونکہ ایسے اقدامات سے فلسطینی سرزمین کے ساتھ ساتھ پورے علاقے پر منفی بلکہ خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔

مشترکہ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے ’واضح اور فیصلہ کن‘ اقدامات کرے، بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنائے اور فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کا تحفظ کرے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی موجودہ حکمران اتحاد میں کئی ایسے ارکان شامل ہیں جو یہودی آبادکاروں کے حامی ہیں اور مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے خواہاں ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جسے اسرائیل 1967 کی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں قبضے میں لے چکا تھا اور جس پر وہ مذہبی اور تاریخی دعوے کرتا ہے۔

مغربی کنارا ان علاقوں میں شامل ہے جنہیں فلسطینی ایک مستقبل کی آزاد ریاست کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ اس کا بڑا حصہ اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں فلسطینی اتھارٹی کے تحت محدود خود مختاری موجود ہے۔

اراضی کی رجسٹریشن کی منظوری اس سے قبل اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی جانب سے رواں ماہ کے آغاز میں منظور کیے گئے ان اقدامات کے بعد سامنے آئی ہے، جن کی حمایت انتہائی دائیں بازو کے وزرا نے کی تھی۔ ان اقدامات کا مقصد 1990 کی دہائی کے اوسلو معاہدوں کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول کو مزید سخت کرنا تھا۔

جاری کردہ مشترکہ بیان میں ان آٹھوں ملکوں نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ناجائز اقدامات کو روکے اور اس سلسلے میں موثر ، واضح اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔

آٹھ ملکوں کے اس بیان میں فلسطینیوں کے حق خود ارادیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی ریاست کا مطالبہ کیا گیا ہے اور جون 1967 کے طے شدہ خطوط پر مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دیا جائے۔

پاکستان، سعودی عرب، اردن، قطر، انڈونیشیا، مصر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کے یہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین، خصوصاً چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے بھی منافی ہیں۔ ان ممالک نے اس اقدام کو ’خطرناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ یہ حکمتِ عملی ایک نیا قانونی اور انتظامی ڈھانچہ مسلط کرنے کی کوشش ہے جس کا مقصد قبضے کو مضبوط بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرنا ہے۔ مسلم ممالک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فیصلہ کن اور واضح اقدامات کرے تاکہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کی پابندی پر مجبور کیا جا سکے اور فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں