مغربی کنارے میں جائیدادوں کے حوالے سے اسرائیل کے نئے اقدامات ... عرب ممالک کی جانب سے مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

فلسطینی اتھارٹی، مصر اور قطر نے اتوار کی شام اسرائیلی حکومت کی جانب سے جائیدادوں کے حوالے سے نئے اقدامات کی منظوری کی شدید مذمت کی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کو مزید مضبوط بنانا ہے، جس سے اس مقبوضہ خطے کو با ضابطہ طور پر اسرائیل میں ضم کیے جانے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اسرائیلی فوجی ریڈیو کے مطابق آباد کاروں کے لیے زمینوں کی خریداری آسان بنانے کے اقدامات کی منظوری کے ایک ہفتے بعد، اتوار کو اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے 1967 کے قبضے کے بعد پہلی بار مغربی کنارے میں زمینوں کی ملکیت کی رجسٹریشن اور تصفیے کا عمل شروع کرنے کی ہری جھنڈی دکھا دی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کی وزارتِ خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ایکس' پر اس فیصلے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور مغربی کنارے کی مقبوضہ زمینوں کو قابض اتھارٹی کی نام نہاد "سرکاری املاک" میں تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا۔ وزارت نے اس اقدام کو قانونی طور پر "کالعدم" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ الحاق کے راستے کا عملی آغاز اور فلسطینی ریاست کی بنیادوں کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

مصری حکومت نے بھی اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک "خطرناک اور اشتعال انگیزی" اقدام قرار دیا جس کا مقصد فلسطینی زمینوں پر اسرائیلی قبضے کو دوام بخشنا ہے ... اور یہ بین الاقوامی معاہدوں کی "سنگین خلاف ورزی" ہے۔

قطری وزارتِ خارجہ نے بھی اس فیصلے کی مذمت کی اور اسے فلسطینی عوام کے حقوق چھیننے کے اسرائیلی غیر قانونی منصوبوں کا تسلسل قرار دیا۔

واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے ان اقدامات کی منظوری دے کر بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا تھا جن کے تحت یہودی اسرائیلیوں کو مقبوضہ مغربی کنارے میں براہ راست زمینیں خریدنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس میں ایک قدیم قانون کی منسوخی بھی شامل ہے جو انھیں ایسا کرنے سے روکتا تھا۔

ان اقدامات کے ذریعے اسرائیلی حکام کو بعض مذہبی مقامات کا انتظام سنبھالنے کا اختیار بھی مل گیا ہے، باوجود اس کے کہ وہ مقامات فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں واقع ہیں۔ ان میں خاص طور پر الخلیل میں حرمِ ابراہیمی اور بیت لحم کے قریب گنبدِ راحیل (مسجد بلال بن رباح) شامل ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کا مقصد "جائیدادوں کی رجسٹریشن کے عمل کو منظم کرنا" اور "قانونی تنازعات کا حل" ہے۔ اسرائیل نے ان اقدامات کا جواز پیش کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی پر الزام لگایا کہ وہ ان علاقوں میں زمینوں کی "غیر قانونی رجسٹریشن" کر رہی ہے جو 1990 کی دہائی کے اوسلو معاہدوں کے تحت اسرائیلی اتھارٹی کے ماتحت ہونے چاہئیں۔

واضح رہے کہ1967 سے اب تک تمام اسرائیلی حکومتوں کے دور میں بستیوں کی تعمیر کا کام جاری رہا ہے، تاہم موجودہ انتظامیہ کے دور میں اس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر 7 اکتوبر 2023 کو حماس تنظیم کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے۔

مشرقی بیت المقدس کے علاوہ جسے اسرائیل نے پہلے ہی ضم کر لیا ہے، مغربی کنارے کے مختلف حصوں میں 30 لاکھ فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ 5 لاکھ سے زائد اسرائیلی آباد کار ایسی بستیوں میں مقیم ہیں جنہیں اقوام متحدہ بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی تصور کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں