امریکہ کے امیگریشن سے متعلق مقدمات سننے والے جج نے امیگریشن حکام کو کولمبیا یونیورسٹی کے فلسطینی گریجوایٹ کو ڈی پورٹ کرنے سے روک دیا ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے اس طالبعلم نے میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔
بعد ازاں محسن مہداوی نامی اس طالب علم کو امیگریشن ایجنٹوں نے پچھلے سال گرفتار کر لیا تھا۔ یہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی تھی جب محسن مہداوی امریکی شہریت کے حصول کے سلسلے میں انٹرویو دینے والا تھا۔
مہداوی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ غزہ جنگ کے خلاف مظاہروں کی ایک لہر بنانے میں تھا۔ یہ احتجاجی مظاہرے کئی امریکی یونیورسٹیوں میں کیے گئے تھے۔ مظاہروں کا مقصد غزہ جنگ کو رکوانے کے لیے رائے عامہ کا اظہار تھا ۔ تاکہ بچوں اور عورتوں کی ہزاروں تک پہنچ چکی ہلاکتوں کا سلسلہ اب رک جائے۔
یہ فلسطینی طالب علم مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے میں پیدا ہوا تھا۔ جبکہ 2015 سے امریکہ میں مستقل رہائشی کے طور پر موجود تھا۔ وہ ماہ مئی میں نیو یارک کی عظیم جامعہ سے گریجوایٹ ہوا تھا۔ البتہ اسے اپریل 2025 میں گریجوایشن کا رزلٹ آنے سے پہلے ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔
امریکی امیگریشن جج نے منگل کے روز فیصلہ سنایا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ محسن مہداوی کے خلاف مناسب اور ضروری شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس لیے قانونی طور پر اسے امریکہ سے ڈی پورٹ کرنا درست نہیں ہے ۔
جج نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دستخطوں کے ساتھ پیش کی گئی دستاویزات کے درست اور مصدقہ ہونے پر بھی سوال اٹھائے۔ کہ مہداوی مشرق وسطی کے امن کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ یہود مخالف بیانات دے چکا ہے۔ تاہم عدالت نے اس سرکاری الزام پر سوال اٹھائے اور اس کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
وزیر خارجہ کا موقف یہ تھا کہ وفاقی قانون انہیں یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی غیر ملکی کا ویزا منسوخ کر سکتے ہیں اور اسے ڈی پورٹ کرنے کا حکم جاری کرسکتے ہیں۔
انتظامیہ نے اس عدالتی فیصلے کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور کوششوں کو دھچکا پہنچانے والا اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی۔ صدرٹرمپ کی انتظامیہ امریکہ میں مظاہروں کو کچلنے اور امیگرنٹس کو ڈی پورٹ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
امریکی انتظامیہ ایک اور فلسطینی محمود خلیل کو بھی ڈی پورٹ کرنے کی کوشش کر چکی ہے۔ محسن مہداوی نے جج کے فیصلے کے بعد کہا میں فاضل جج کا ممنون ہوں کہ انہوں نے امریکہ میں قانون کی بالادستی کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ مہداوی کا یہ بیان ان کے وکیل کے توسط سے سامنے آیا ہے۔
محسن مہداوی نے کہا عدالت کا یہ فیصلہ انصاف کے خلاف کوششوں کے سد باب کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
-
اسٹامر اور ٹرمپ کا ٹیلیفونک رابطہ ... ایرانی جوہری معاملے اور غزہ کی صورت حال پر بات چیت
برطانیہ میں ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ایک ترجمان نے اعلان کیا کہ وزیر اعظم کیئر اسٹامر نے ...
بين الاقوامى -
مغربی کنارے، غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی کے لیے کوشش جاری رکھیں گے: اسرائیلی وزیر
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ بیزلل سماٹریچ نے کہا کہ وہ مقبوضہ ...
بين الاقوامى -
اسرائیلی فوج: غزہ میں مشتبہ 'فرینڈلی فائرنگ' سے ایک فوجی ہلاک
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کا ایک فوجی بدھ کے روز جنوبی غزہ میں لڑائی میں ...
مشرق وسطی