حزب اللہ فوج کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی ہے : لبنانی وزیر صنعت

الخوری کے مطابق حکومت حزب اللہ کے علاقوں میں فوج کی تعیناتی کی صلاحیت کا جائزہ لے رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

لبنانی وزیر صنعت جو عيسى الخوری نے حزب اللہ کے اس بیان کا جواب دیا ہے جس میں تنظیم نے لبنانی حکومت کے موقف پر تنقید کرتے ہوئے اسے "بڑی غلطی" قرار دیا کہ اس کی توجہ اسلحہ چھیننے پر ہے۔

الخوری نے "العربیہ/الحدث" کے ساتھ گفتگو میں وضاحت کی کہ اصلاحات ریاست کے کنٹرول سے باہر اسلحے کی وجہ سے رکی ہوئی ہیں۔

ان کی رائے میں حزب اللہ فوج کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی ہے۔

لبنانی وزیر صنعت نے مزید کہا کہ حزب اللہ کا خود اسلحہ حوالے کرنے کا اقدام سب کے لیے بہترین راستہ ہے۔

الخوری نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ کو خود اسلحہ حوالے کرنا چاہیے۔ انھوں نے اشارہ کیا کہ حکومت حزب اللہ کے علاقوں میں فوج کی تعیناتی کی صلاحیت کا جائزہ لے رہی ہے۔

انہوں نے ریاست سے باہر کسی بھی گروہ کے اسلحہ اٹھانے کو مسترد کرنے کی تاکید کی۔

یہ اس وقت سامنے آیا جب لبنانی حکومت نے پیر کے روز اعلان کیا کہ فوج کو جنوبی لبنان میں حزب اللہ کا اسلحہ نکالنے کے منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے کم از کم 4 ماہ درکار ہوں گے۔

لبنانی وزیر اطلاعات پال مرقص نے حکومتی اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کابینہ نے "حزب اللہ کا اسلحہ نکالنے کے حوالے سے تمام لبنانی علاقوں میں اسلحہ محدود کرنے کے منصوبے پر فوج کی قیادت کی ماہانہ رپورٹ کا نوٹس لے لیا ہے"۔

لبنانی فوج کا منصوبہ 5 مراحل پر مشتمل ہے، دوسرے مرحلے میں وہ علاقہ شامل ہے جو دریائے لیطانی کے شمال سے دریائے اولی تک پھیلا ہوا ہے، جو صیدا کے شمال میں گرتا ہے اور سرحد سے تقریباً 60 کلومیٹر اور بیروت کے جنوب میں تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم نے پیر کے روز ایک جماعتی تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "لبنانی حکومت جو کچھ اسلحہ نکالنے پر توجہ مرکوز کر کے کر رہی ہے وہ ایک بڑی غلطی ہے کیونکہ یہ موضوع اسرائیلی جارحیت کے مقاصد کو پورا کرتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا "اسلحہ محدود کرنے کے عنوان سے ہر تحریک کو روک دیں"۔ ان کے نزدیک "حکومت کی کارکردگی کسی حد تک اس دشمن کے تسلسل کے لالچ کی ذمہ دار ہے کیونکہ لبنانی حکام کی جانب سے مسلسل رعائتیں دی جا رہی ہیں اور دباؤ کو قبول کیا جا رہا ہے"۔

یاد رہے کہ حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ ایک سال سے زائد عرصے تک جنگ لڑی تھی، جو نومبر 2024 میں جنگ بندی پر ختم ہوئی۔

اس کے باوجود اسرائیل اپنی افواج کو جنوبی لبنان کی 5 اسٹریٹجک پہاڑیوں پر برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
لبنانی حکومت نے گذشتہ اگست میں حزب اللہ کا اسلحہ نکالنے کی منظوری دی تھی اور لبنانی فوج کو اس منصوبے پر عمل درآمد کی ذمے داری سونپی تھی جو اس نے تیار کیا تھا اور اگلے مہینے سے اس پر کام شروع کر دیا تھا۔

یہاں تک کہ فوج نے جنوری کے شروع میں منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کا اعلان کیا، جس میں دریائے لیطانی کا جنوبی علاقہ (جنوبی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور) شامل تھا۔
تاہم اسرائیل نے اس اقدام پر شک کا اظہار کیا اور اسے ناکافی قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں