تباہ شدہ غزہ میں رمضان کا آغاز، مساجد بھی مسماری کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

جب بدھ کے روز غزہ میں فلسطینی مسلمانوں نے رمضان کا آغاز کیا تو بمباری سے تباہ کر دی گئی غزہ کی پٹی پر مسجدیں تک اپنا وجود کھو چکی ہیں اور نماز کی ادائیگی اور تراویح کے لیے لوگوں کو مختلف جگہوں پر ہر طرف بکھرے ملبے کے ڈھیروں کے درمیان اہتمام کرنا پڑا۔

بعض جگہوں پر فلسطینی شہریوں نے ترپالوں اور لکڑی کے ڈھانچوں کی مدد سے عارضی طور پر نماز کی ادائیگی کے لیے مساجد کا اہتمام کیا۔ جبکہ رمضان کی آمد پر جہاں رحمتوں کے نزول کی امید ان کے دلوں میں رچی بسی ہے وہیں انہیں اپنے پیاروں کی یادیں بار بار آبدیدہ کرتی ہیں اور انہیں اپنے گھروں کی تباہی کے مناظر غمزدہ کر جاتے ہیں۔

غزہ شہر میں اسرائیلی بمباری سے تباہ کی گئی حسینیہ مسجد اب ملبے کے ڈھیر پر نظر آتی ہے۔ اس کا پرانا صحن جہاں پہلے نمازی قیام و سجود میں مصروف نظر آتے تھے اب ملبے سے اٹے ہوئے اس صحن میں بے گھر فلسطینی خاندانوں نے بسیرا کر رکھا ہے۔ جہاں وہ سوتے جاگتے ہیں۔

یہی صورتحال غزہ کی پٹی پر دیگر مساجد اور مقامات پر فلسطینی شہریوں کے ساتھ ہے۔

سمیع نامی 61 سالہ رضاکار شہری نے کہا یہ سب دیکھ کر برداشت نہیں ہوتا۔ سمیع ملبے کے ڈھیر پر کھڑے اپنے دکھ اور کرب کی وجہ سے خود بھی ملبے کا ہی حصہ لگ رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی یہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد کندھے سے کندھا ملا کر اور قدم سے قدم ملا کر کھڑی ہوتی تھی اور ہم بہت سکون کے ساتھ اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ ہم اپنے اردگرد اپنے دوستوں کو دیکھتے تھے، ان سے ملاقات ہوتی تھی۔ ہم اپنے پیاروں کو انہیں صفوں میں موجود پاتے تھے لیکن اب مسجدیں ملبے کا ڈھیر اور نمازیوں کی صفیں غیر موجود اور اپنے پیاروں کے چہروں کو دیکھنا نصیب میں نہیں۔ نہ کوئی دوست رہا نہ کوئی مسجد۔

ایک جگہ پر تباہ حالی کا شکار بچے مسجد کے ٹوٹے ہوئے گنبد کے نیچے کھڑے تھے۔ جبکہ خواتین نے مسجد کے گرے ہوئے ستونوں کے درمیان کپڑے زمین پر بچھا رکھے تھے۔

سمیع نے کہا اب رمضان میں اس مسجد کی طرح کچھ آس پاس کی جگہوں پر شجاعیہ کے لوگ بھی آئے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ہزاروں لوگ یہاں جمع ہوئے ہوں۔ لیکن نہیں اندازہ یہ ہزاروں لوگ نماز کی ادائیگی کہاں اور کیسے کر سکیں گے کیونکہ ہر طرف ملبے کا ڈھیر بکھرا ہوا ہے۔ اب یہ جگہ چند سو لوگوں کی ادائیگی نماز کے لیے کافی نہیں رہی۔

غزہ پر مسلط کردہ اسرائیلی جنگ کے دوران 72 ہزار فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔ جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔

غزہ کی حکومت کے اطلاعاتی شعبے کے دفتر کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل نے بمباری کر کے 835 مساجد کو کلی طور پر شہید کر دیا ہے جبکہ باقی ماندہ 180 مساجد جزوی طور پر منہدم ہوگئی ہیں۔

اسرائیل نے اس دوران مسیحی کمیونٹی کے گرجا گھروں کو بھی کئی بار نشانہ بنایا ہے۔ جبکہ 40 سے 60 قبرستان بھی اسرائیل کی بمباری کا ہدف رہے ہیں۔

اسرائیل جو ایک نارمل ریاست نہیں ہے اس کا جنگی طریقہ کار بھی نارمل ریاستوں کی طرح نہیں ہے۔ البتہ اس کا اس ساری تباہی کا بہانہ ایک گھڑا گھڑایا اور بنا بنایا ہمہ وقت دستیاب رہتا ہے کہ اس نے یہ سب کچھ فلسطینی مسلح گروپوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا ہے۔

مقامی فلسطینی شہری خطام جابر نے کہا ہم رمضان کا اب کی بار ایک بالکل مختلف ماحول میں استقبال کر رہے ہیں۔ ہم بے گھر ہو کر مسجدوں کے ان صحنوں میں پڑے ملبوں پر آباد ہوگئے ہیں۔ اب یہاں کے نمازیوں کے لیے مسجدیں موجود نہیں ہیں۔ نہیں معلوم لوگ رمضان میں عبادت کہاں اور کیسے کر سکیں گے۔ ہم عارضی طور پر شکستہ اور بوسیدہ سے ٹینٹوں میں نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یاد رہے غزہ میں رمضان کی آمد کے ساتھ ہی غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس کا انعقاد آج ہونے جا رہا ہے۔ جس میں عرب و اسلامی ملکوں کے نمائندے بھی غزہ کے مستقبل پر صدر ٹرمپ کی قیادت میں اہم فیصلے کرنے جا رہے ہیں۔

خطام جابر نے مزید کہا ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ ہم رمضان کو ایک مختلف ماحول میں خوش آمدید کہہ سکیں گے۔

یاد رہے غزہ میں مساجد شہید ہونے کے بعد اب تک بے گھر فلسطینیوں نے 430 ایسی جگہوں کو مسجدوں کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا ہے جو مسجدوں کے ملبوں پر لگے ٹینٹوں یا مسجدوں کی عارضی نشاندہی کے طور پر موجود ہیں۔ کہیں لکڑیوں کا ڈھانچہ کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور کہیں ترپالوں اور خیموں کو کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔ کہیں کہیں ہلاسٹک کی شیٹ سے بھی مدد لی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں