رمضان المبارک : جب رفح گورنری میں یمنی کمیونٹی سعودی شہریوں کے ساتھ اور گھل مل جاتی ہے
سعودی عرب کی شمالی سرحد سے جڑی رفح گورنری میں یمنی کمیونٹی باہمی ہم آہنگی اور بقائے باہمی و سماجی اتحاد کے رشتوں میں منسلک ہو کر زندگی گزار رہی ہے۔
سعودی عرب کی شمالی سرحد کے ساتھ یہ سب سے زیادہ پرانے یمنی تارکین وطن کی کمیونٹی ہے جو آباد ہے۔
یہ کمیونٹی پچھلی کئی دہائیوں سے سماجی و معاشی سطح پر اس علاقے میں اپنا کردار بھی ادا کر رہی ہے اور عملا مقامی سطح پر یہ ایک الگ نہ ہونے والا حصہ بن کر رہ گئی ہے۔
رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی یہاں پر ریلیف سے متعلق سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح رمضان المبارک کے حوالے سے یمنی روایات اور سعودی عرب کے طور اطوار آپس میں مل کر ایک نیا ماحول بنا دیتے ہیں۔ جن میں باہمی اخوت اور انسانی بنیادوں پر ایک دوسری کی ہمدردی و خیر خواہی کے جذبات مشترکہ طور پر آگے بڑھتے ہیں۔ جو ملک کے لیے بجائے خود نہ صرف یہ کہ فخر کا باعث ہے بلکہ سلامتی و استحکام کے حوالے سے مفید اور ثقافتی اعتبار سے ایک متنوع منظر پیش کرتی ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے 'ایس پی اے' سے بات کرتے ہوئے رفح میں مقیم یمنی باشندوں نے کہا انہیں سعودی عرب میں رہتے ہوئے کبھی بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا۔ کیونکہ ہمارے سماجی و تاریخی تعلقات باہم ایک دوسرے کو متحد کرتے ہیں۔
جبکہ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی دونوں ملکوں سے تعلق رکھنے والی کمیونٹیز آپس میں مشترکہ اقدار کی وجہ سے اور زیادہ قریب آجاتی ہیں۔بھائی چارہ، سخاوت اور باہمی اتحاد رفح میں اپنی بہترین جھلک پیش کرتا ہے۔ خاص طور پر افطار کے موقع پر بچھے دسترخوان میں یمنی و سعودی ہمسائے دوست باہم جڑ جاتے ہیں۔
عبد الرزاق الشجاع ایک یمنی شہری ہیں۔ انہوں نے کہا یمنی خاندان رمضان المبارک کی روایات کے حوالے سے اپنی ثقافتی شناخت کا اظہار کرتے ہیں اور خاندان کی باہم دعوتیں کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو خصوصی کھانے تیار کر کے تحفے میں بھیجتے ہیں۔ رمضان کی نمازوں میں اکٹھے ہوتے ہیں اور اپنی مشترکہ سرگرمیوں کو انجام دیتے ہیں۔
افطار کے موقع پر بننے والے خصوصی پکوان کئی نسلوں سے ایک روایت کے طور پر جاری ہیں اور یہ رمضانی پکوان آج بھی سب کے لیے معروف اور پسند کے بہترین معیار پر پورا اترتے ہیں۔
باشر الشجاع نے اس موقع پر سعودی عرب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب حقیقی معنوں میں کئی ثقافتوں کا ماحول پیش کرنے والی مملکت ہے۔ جہاں کئی قومیں مل کر رہتی ہیں اور ایک دوسرے کے احترام کا لحاظ رکھتی ہیں اور رمضان المبارک میں باہمی قربت و اتحاد کو مزید قربت ملتی ہے۔
-
سعودی عرب مصنوعی ذہانت کی عالمی شراکت داری میں شامل ہونے والا پہلا عرب ملک بن گیا
یہ قدم مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال میں سعودی عرب کے قائدانہ ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب کی اسرائیل میں امریکی سفیر کے اشتعال انگیز بیانات کی شدید مذمت
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہاکابی کے ان ...
مشرق وسطی -
سعودی یومِ تاسیس: 2022 میں سرکاری تعطیل بننے کے بعد اب یہ کیسے منایا جاتا ہے
یہ مملکت کے ثقافتی ورثے، اتحاد اور مستقبل کے عزائم کا ایک رنگارنگ جشن بن گیا ...
مشرق وسطی