سعودی یومِ تاسیس: 2022 میں سرکاری تعطیل بننے کے بعد اب یہ کیسے منایا جاتا ہے

یہ مملکت کے ثقافتی ورثے، اتحاد اور مستقبل کے عزائم کا ایک رنگارنگ جشن بن گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

دو ہزار بائیس میں پہلی بار قومی تعطیل کے طور پر منائے جانے کے بعد سے پانچویں سرکاری یومِ تاسیس پر سعودی شہری سال کے ایک سب سے بڑے جشن کے لیے تیار ہو رہے ہیں - جو ہر مرتبہ ایک نیا ارتقاء اور نشوونما پا رہا ہے۔

یوم تاسیس 1727 امام محمد بن سعود کی طرف سے اولین سعودی ریاست کے قیام کی یاد دلاتا ہے۔ یہ ملک کی ثقافتی بنیادوں، اتحاد، ملک کی تاریخ اور اس کے کارناموں پر فخر کا جشن ہے۔

سعودی شہری ریاض میں جشن منا رہے ہیں۔ (جعفر الصالح)
سعودی شہری ریاض میں جشن منا رہے ہیں۔ (جعفر الصالح)

جیسا کہ سعودی عرب اپنے طویل مدتی ویژن 2030 کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہے تو یومِ تاسیس ایک ایسا موقع ہے جو ماضی کا احترام کرتا اور مستقبل کی طرف لے جانے والی رفتار کے لیے جوش و خروش برقرار رکھتا ہے۔

عرب نیوز نے درعیہ گیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ریسرچ اینڈ کلچرل ایکریڈیشن کے سینئر ڈائریکٹر فیصل العامر سے اس دن کی اہمیت کے بارے میں بات کی۔

سعودی شہری ریاض میں جشن منا رہے ہیں۔ (نایف العتیبی)
سعودی شہری ریاض میں جشن منا رہے ہیں۔ (نایف العتیبی)

انہوں نے کہا، "22فروری 1727 کو اس قوم کی بنیاد اتحاد اور خوشحالی کے مشترکہ وژن پر رکھی گئی۔ تقریباً تین صدیوں بعد ہم اپنے ہیروز کی کہانیاں یاد کرتے ہیں - ان کی قربانیوں اور ان قابلِ ذکر کوششوں کی جن کے ذریعے انہوں نے اس کی بنیاد رکھی جو بطور سعودی شہری ہم آج ہیں۔"

سعودی شہری ریاض میں جشن منا رہے ہیں۔ (نایف العتیبی)
سعودی شہری ریاض میں جشن منا رہے ہیں۔ (نایف العتیبی)

جب سے یہ دن سرکاری تعطیل بنا ہے، سعودی شہریوں نے یومِ تاسیس کی تقریبات کو وسعت دی ہے اور جشن میں مقامی فنون اور موسیقی سے لے کر نجی اور سرکاری دونوں شعبوں کی سرگرمیاں شامل ہو گئی ہیں۔

دو ہزار بائیس کے اولین ایڈیشن میں تقریبات میں آتش بازی اور فضائی ڈرون شوز کے ساتھ ساتھ "فاؤنڈنگ آپریٹا" جیسے کنسرٹس شامل تھے۔

سعودی شہری ریاض میں جشن منا رہے ہیں۔ (نایف العتیبی)
سعودی شہری ریاض میں جشن منا رہے ہیں۔ (نایف العتیبی)

اُس وقت قومی عجائب گھر نے مملکت کی تاریخ اور ثقافت دونوں کی یاد منانے کے لیے مجلس کی تقریبات بھی منعقد کیں۔

اس کے بعد سے یومِ تاسیس کی تقریبات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ 2023 میں یومِ تاسیس کے تاریخی مارچ اور روایتی لباس، موسیقی اور کھانے کی دریافت کرنے والی عمیق سرگرمیوں کے ذریعے تعطیل منائی گئی۔

سعودی شہری ریاض میں جشن منا رہے ہیں۔ (نایف العتیبی)
سعودی شہری ریاض میں جشن منا رہے ہیں۔ (نایف العتیبی)

دفاتر اور سکولوں میں چھٹی سے جشن کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی لوگ اس دن روایتی لباس پہنتے ہیں۔

جیسا کہ العامر نے کہا: "ہم خوشی مناتے اور ان کی میراث کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ہم ان افراد کا احترام کرتے ہیں جنہوں نے ہماری تاریخ تشکیل دی اور یہ اقدار مجسم کیں: سخاوت، استقامت، لچک، ہمت اور وفاداری۔

نیز کہا، "اپنے بانیوں کی یاد مناتے وقت ہمیں یاد دلایا جاتا ہے کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے اس کی تعریف کریں اور موجودہ وقت میں اس کی قدر کریں۔"

یومِ تاسیس کا ایک اور اہم پہلو تعطیل کو ملک کے مخصوص قدرتی مناظر سے جوڑنا ہے۔

باضابطہ سیاحتی پلیٹ فارم وزٹ سعودی کے مطابق مملکت کی تاریخ، اب تک کے سفر اور اس کی سمت کو سمجھنے کا مرکز وہ سرگرمیاں ہیں جو ثقافتی اور قدرتی طور پر پُرکشش مقامات کی خوشی مناتی ہیں۔

جیسا کہ العامر نے عرب نیوز کو بتایا، مملکت میں سب سے زیادہ علامتی مقامات میں سے ایک قدیم شہر درعیہ ہے۔

"درعیہ ہماری قوم کی جائے پیدائش ہمارے ظاہری، غیر ظاہری اور قدرتی ورثے کے ایک زندہ مرکز کے طور پر کھڑا ہے - ہم فخر سے اس ورثے کو یومِ تاسیس جیسے بامعنی دن پر نمایاں کرتے ہیں۔"

تعطیل کو تعلیمی نصاب میں شامل کرکے اسے قبول کرنے کی خواہش ظاہر کرتی ہے کہ چھٹی جس اتحاد پر زور دیتی ہے، وہ زندہ ہے۔

مثلاً پاکستان انٹرنیشنل سکول جدہ نے گذشتہ سال یومِ تاسیس منانے کے لیے ایک ہفتے کی سرگرمی ترتیب دی اور طلبہ کو انٹرایکٹو سرگرمیوں اور پریزنٹیشنز کے ذریعے تعلیم دی تھی۔

اس دفعہ کا یومِ تاسیس خاص طور پر رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران آیا ہے جو گذشتہ سالوں کے مقابلے میں دو مواقع کو ایک دوسرے سے ملاتے ہوئے ایک منفرد جشن تخلیق کرنے کا باعث ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں