امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو جو سعودی عرب کی دوسری بڑی شاہی ریزرو ہے، انسان اور ماحول کے تعلق کو نئے سرے سے استوار کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کا مقصد قدرت کو علم اور معیشت کے ایک پائیدار ذریعے کے طور پر استعمال کرنا ہے۔
امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو کا قیام سنہ 2018 ءمیں ایک شاہی فرمان کے ذریعے عمل میں لایا گیا تھا جبکہ اس نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز سنہ 2021ء میں کیا۔ یہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز رائل ریزرو کے بعد ملک کی دوسری سب سے بڑی شاہی ریزرو ہے۔
قومی نمونہ
ریزرو کے سرکاری ترجمان احمد القرنی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جن نمایاں اہداف پر کام کر رہے ہیں ان میں سے ایک اسے مملکت میں ماحولیاتی سیاحت کے لیے ایک قومی نمونہ بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے قدرتی اور ثقافتی وسائل کو ماحولیاتی توازن متاثر کیے بغیر ایک پائیدار ترقیاتی قدر میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
انسان اور ماحول کا تعلق
احمد القرنی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ریزرو محض جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کوئی مخصوص رقبہ نہیں ہے بلکہ یہ انسان اور ماحول کے درمیان تعلق کی ازسرنو تشکیل کا ایک پلیٹ فارم ہے۔ یہ اس بات کو نمایاں کرتی ہے کہ کس طرح قدرت کو سیاحتی تجربے، علم اور معیشت کے ماخذ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ اس حوالے سے ایک جامع ویژن اپنایا گیا ہے جو ماحولیاتی سیاحت کو ایک ایسے مربوط نظام کے طور پر دیکھتا ہے جو تحفظ، ترقی، ثقافت اور مقامی معاشرے کو آپس میں جوڑتا ہے۔
ریزرو کی خصوصیات
یہ ریزرو 91,500 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر محیط ہے اور منفرد ماحولیاتی و جغرافیائی تنوع کی حامل ہے۔ اس میں صحرائے النفود الکبیر، وادیاں اور میدان شامل ہیں، جو زائرین کو جنگلی حیات اور نباتات سے بھرپور کثیر الجہتی قدرتی تجربہ فراہم کرتے ہیں۔
تحفظ اور معاشی ترقی کے درمیان توازن
سرکاری ترجمان کے مطابق یہ ریزرو مملکت میں قدرتی وسائل کے انتظام میں آنے والی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ اسے محض تحفظ کے علاقے کے بجائے ایک معاشی اور پائیدار ترقیاتی معاون کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ریزرو کا وسیع رقبہ حساس ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور اس کی پائیداری کو یقینی بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس کے تزویراتی اہداف میں ماحول کے تحفظ، مقامی برادریوں کی مدد اور قومی معیشت میں تنوع لانے کو سرفہرست قرار دیا۔ ریزرو کے اندر نافذ کیے گئے سیاحتی پروگرام اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ ماحولیاتی توازن کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
ماحولیاتی سیاحت کی حمایت
احمد القرنی کی رائے میں شاہی ریزرو محض محفوظ علاقے نہیں ہیں بلکہ یہ ایک ایسے قومی منصوبے کا حصہ ہیں جو ماحول، معیشت اور ترقی کے تعلق کی نئی تعریف کرتا ہے۔ امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو اس تبدیلی کا ایک منفرد نمونہ ہے، جس کی حدود میں پانچ انتظامی علاقے شامل ہیں۔ یوں اس میں القصیم، شمالی حدود، حائل، الجوف اور مشرقی علاقے کے کچھ حصے شامل ہیں۔
پائیدار ترقی کا پلیٹ فارم
سعودی حکومت اس ریزرو کو پائیدار ترقی کے ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر تیار کر رہی ہے جو ماحول کے تحفظ اور معاشی فوائد کے فروغ کو یکجا کرے۔ اس فریم ورک کے تحت اس ریزرو میں ماحولیاتی سیاحت کے 70 سے زائد شعبے موجود ہیں، جن میں رہائشی منصوبے جیسے کہ پرتعیش کیمپنگ، فلکیاتی سیاحت، جنگلی حیات سے متعلق سرگرمیاں اور بعض تجارتی سرگرمیاں شامل ہیں۔
-
سعودی ولی عہد کے زیر صدارت کابینہ کا اجلاس
دوسرے ملکوں کے ساتھ معاہدات اور علاقائی صورتحال کا جائزہ
مشرق وسطی -
سعودی عرب کے روایتی پکوان ماہِ رمضان کے دسترخوان کی اصل شان
سعودی عرب میں رمضان کا دسترخوان ایسا ثقافتی تنوع پیش کرتا ہے، جو ملک کی وسعت اور ...
مشرق وسطی -
سعودی قیادت کی جانب سے امیرِ کویت کو قومی دن پر تہنیتی پیغام
ریاض اور کویت کے درمیان مثالی برادرانہ تعلقات کی تجدید کا عزم
مشرق وسطی