سحری میں جگانے والے .... صرف 30 دن کے پیشے کی مصر میں ابتدا کس شخصیت نے کی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ماہِ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی کئی ایسے موسمی پیشے اور روایات نمایاں ہو جاتی ہیں جو صدیوں سے اس مبارک مہینے کا حصہ ہیں۔

اس حوالے سے "مسحراتی" (سحری میں جگانے والا) رمضان کی سب سے ممتاز علامت ہے، جو فجر سے قبل گلیوں میں گھوم کر، ڈھول بجا کر یا نعت و منقبت پڑھ کر لوگوں کو سحری کے لیے بیدار کرتا ہے۔ یہ پیشہ 30 دن جاری رہتا ہے اور رمضان کی راتوں میں ایک خاص رونق پیدا کرتا ہے۔

تاریخی روایات کے مطابق اس پیشے کی جڑیں عہدِ نبوی سے ملتی ہیں۔ حضرت بلال بن رباح اور حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہما سحری کے اوقات میں اذان دیا کرتے تھے۔ حضرت بلال لوگوں کو سحری شروع کرنے کے لیے جگاتے، جبکہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم فجر کے قریب روزہ شروع کرنے کے لیے اذان دیتے تھے۔ تاہم سحری میں جگانے والوں کی موجودہ روایتی شکل عباسی اور فاطمی دور میں پروان چڑھی۔

مصر میں سحری میں جگانے والوں کے پکارنے کے انداز بہت مشہور ہیں، جیسے "اے سونے والے، اللہ کی وحدانیت کا اقرار کر، سحری کا وقت ہے اللہ کے بندو !"۔ شام میں اسے "الموقظ" اور مراکش میں "الطبّال" کہا جاتا ہے۔ محقق احمد عامر نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" اور "الحدث ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ مصر میں فاطمی سلطان الحاكم بأمر اللہ کے دور میں سپاہی گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کر لوگوں کو جگاتے تھے، جو بعد میں ڈھول اور دف کی صورت اختیار کر گیا۔

بعد ازاں 832 ہجری میں مصر کے والی عتبہ بن اسحاق خود پیدل چل کر لوگوں کو سحری کے لیے پکارتے تھے، جس کی وجہ سے اس پیشے کو عوامی مقبولیت ملی۔

ممالیک کے دور میں "ابن نقطہ" سحری میں جگانے والوں کے سردار اور سلطان ناصر محمد کے خاص عامل تھے۔ وقت کے ساتھ اس پیشے میں لوک اشعار بھی شامل ہو گئے۔ سحری میں جگانے والوں کی اجرت پہلے غلے یا فصل کی صورت میں ہوتی تھی، مگر غریبوں سے وہ کبھی کچھ طلب نہیں کرتے تھے۔

آج ٹیکنالوجی اور موبائل فونز کی وجہ سے یہ پیشہ معدومیت کے قریب ہے۔ لوگ اب رمضان کی راتوں میں کم ہی سوتے ہیں اور اگر سو جائیں تو موبائل الارم سحری میں جگانے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود، مصر اور دیگر عرب ممالک کی گلیوں میں سحری میں جگانے والے "مسحرتی" آج بھی نظر آتے ہیں، لیکن اب ان کا مقصد محض لوگوں کو جگانا نہیں بلکہ رمضان کی خوشیوں کا اظہار اور قدیم روایات کو زندہ رکھنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں