مقبوضہ مغربی کنارا : پہلی بار امریکی قونصل خانہ یہودی بستیوں میں پاسپورٹ فراہم کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ نے اسی ہفتے سے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے باسیوں کے لیے پہلی بار موقع پر پاسپورٹ فراہمی کا اہتمام کیا ہے۔ یہ سہولت امریکی قونصل خانے کی طرف سے یہودی بستیوں کے رہنے والے لوگوں کو منگل کے روز سے ایک اعلان کے مطابق پیش کی گئی ہے۔

امریکہ کا یہودی بستیوں کے رہنے والوں کے لیے یہ اہتمام اس کے باوجود کیا گیا ہے کہ پوری دنیا بین الاقوامی قانون کے مطابق ان یہودی بستیوں کو غیر قانونی اور ناجائز قرار دیتی ہے۔ جبکہ امریکہ نے اس کے برعکس یہودی بستیوں کو یہ خدمات فراہم کر کے مؤقف اپنایا ہے۔

فلسطینی عوام طویل عرصے سے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ مغربی کنارا مستقبل کی فلسطینی ریاست کا حصہ ہے۔ جبکہ اس میں غزہ اور مشرقی یروشلم بھی شامل ہوگا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسی مہینے اپنی کابینہ کے ذریعے ان اقدامات کا اعلان کیا ہے جو مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع، نئی تعمیر اور مغربی کنارے کو اسرائیلی ریاست میں ضم کرنے کی طرف اقدامات سمجھے جا رہے ہیں۔

دسیوں ہزار امریکی یہودی بستیوں میں

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے کٹر حامی ہیں اور اس کے باوجود ان کا بھی دعویٰ یہ رہا ہے کہ وہ مغربی کنارے کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کے مخالف ہیں۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جو اسرائیل کو مغربی کنارے میں من مانی سے روک سکتا ہو۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر امریکی سفارتخانے نے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ یہودیوں بستیوں میں پاسپورٹ کے اجراء کا اہتمام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ ان بستیوں میں رہنے والے تمام امریکیوں تک پہنچا جا سکے۔

قونصل خانے کے حکام کے مطابق یہودی بستیوں کے رہنے والوں کو جمعہ کے روز 27 فروری کو معمول کے مطابق پاسپورٹ فراہم کیے جائیں گے اور اس کے لیے بیت لحم میں قائم یہودی بستی کا انتخاب کیا گیا ہے۔

امریکی سفارتخانے نے اس موقع پر یہ بھی کہا ہے کہ اسی طرح کی سہولتیں مغربی کنارے میں قائم یہودی بستیوں میں بھی دی جائیں گے۔ جن میں رام اللہ شہر کے علاوہ یہودی بستی بیتار میں بھی یہ سہولت دی جائے گی۔ اسی طرح اسرائیلی شہر حیفا میں بھی پاسپورٹ فراہمی کا یہ اہتمام کیا جائے گا۔

امریکہ پاسپورٹ فراہم کرنے کی یہ خدمات قونصل خانے اور ایمبیسی میں پیش کرتا ہے۔ علاوہ ازیں تل ابیب میں قائم سفارتی دفتر سے بھی یہ سہولت دی جاتی ہے۔

ہزاروں امریکی شہری یہودی ہونے کی وجہ سے اسرائیل کے بھی شہری ہیں جو مغربی کنارے میں آباد ہیں۔ جب امریکی سفارتخانے کے ترجمان سے اس پر تبصرے کے لیے کہا گیا تو اس کا کہنا تھا یہ پہلا موقع ہے کہ ہم یہودی بستیوں میں جا کر یہ سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

ترجمان کے مطابق یہ سہولت مغربی کنارے کے رہنے والے ان فلسطینیوں کے لیے بھی ہوگی جو امریکی شہریت رکھتے ہیں۔

'ڈی فیکٹو' الحاق

پچھلے ہفتے اسرائیلی کابینہ نے مغربی کنارے پر اپنا قبضہ مضبوط تر کرنے کے لیے اقدامات کی منظوری دی ہے۔ جس کے تحت یہودی آبادکاروں کے لیے فلسطینیوں کی زمین خریدنا آسان کر دیا گیا ہے۔

فلسطینی عوام ان اسرائیلی اقدامات کو مغربی کنارے کے 'ڈی فیکٹو' الحاق کے مترادف قرار دیتے ہیں۔

مغربی کنارے کا بڑا حصہ اسرائیلی کنٹرول میں ہے جبکہ بہت تھوڑے حصے پر فلسطینیوں کا کنٹرول ہے۔ جسے فلسطینی اتھارٹی چلاتی ہے۔

نیتن یاہو کا حکومتی اتحاد یہودی بستیوں کی بڑی پیمانے پر حمایت رکھتا ہے۔ کئی ارکان پارلیمان یہودی بستیوں اور مغربی کنارے میں آباد کیے گئے ہیں۔

اسرائیل نے مغربی کنارے پر 1967 میں قبضہ کیا تھا۔ جسے وہ اب مزید پکا کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی کل آبادی 5 لاکھ تک پہنچی ہے۔ جبکہ فلسطینیوں کی اس علاقے میں آبادی اب بھی 30 لاکھ ہے۔

اسرائیل نے یہودی بستیوں کو بڑی فصیلوں اور باڑ لگا کر محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ اسرائیلی فوجی بھی ان یہودی بستیوں کی حفاظت پر مامور رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں