امریکی بحریہ کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد کہ طیارہ بردار بحری جہاز "جیرالڈ فورڈ" آپریشنز کے لیے تیار ہے، دنیا کا سب سے بڑا اور جدید ترین طیارہ بردار بحری جہاز اسرائیل پہنچ گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق آج جمعے کو سامنے آنے والے مناظر میں امریکی بحری جہاز کو اسرائیل کے ساحلوں کے قریب پہنچتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اسی دوران اسرائیل میں امریکی سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنے کچھ ملازمین کو "سکیورٹی وجوہات" کی بنا پر ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے۔
The USS Gerald R. Ford arrives in Israel https://t.co/B3AC4kYZba
— Reuters (@Reuters) February 27, 2026
دوسری جانب چین نے اپنے شہریوں کو ایران کا سفر کرنے سے خبردار کیا ہے اور وہاں موجود اپنے باشندوں پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد وہاں سے نکل جائیں۔
On February 27, 2026, the Department of State authorized the departure of non-emergency U.S. government personnel and family members of U.S. government personnel from Mission Israel due to safety risks.
— U.S. Embassy Jerusalem (@usembassyjlm) February 27, 2026
In response to security incidents and without advance notice, the U.S.… pic.twitter.com/aWzX6Gk36x
اسرائیلی اخبار "یسرائیل ہیوم" کے مطابق اسرائیلی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ رات 14 امریکی ری فیولنگ طیارے اسرائیل پہنچے ہیں۔
يقوم سرب المقاتلات الهجومية (VFA) 151 بعمليات طيران من على متن حاملة الطائرات يو أس أس أبراهام لينكولن (CVN 72) في بحر العرب. pic.twitter.com/99KrHdQdCI
— U.S. Central Command - Arabic (@CENTCOMArabic) February 26, 2026
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی بحریہ نے آج اس بات پر زور دیا تھا کہ طیارہ بردار بحری جہاز مکمل طور پر تیار ہے اور ان خبروں کی تردید کی کہ اس کے آپریشنز میں کسی خرابی نے اثر ڈالا ہے۔ یہ پیش رفت چینی سیٹلائٹ سروس کمپنی Mizar Vision کی جانب سے اسرائیلی فضائیہ کے اڈے "عوفدا" کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کرنے کے بعد ہوئی ہے۔ ان میں 11 امریکی اسٹیلتھ ایف-22 ریپٹر طیارے اڈے کے اندر پھیلے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
باخبر ذرائع نے گذشتہ روز بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مشیر اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ اسرائیل ایران پر پہلے حملہ کرے اور واشنگٹن بعد میں اس کے ساتھ شامل ہو۔
تاہم "پولیٹیکو" اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان ذرائع نے واضح کیا کہ اسرائیل کے پہلے اقدام کرنے کی امریکی خواہش کے باوجود، زیادہ تر ممکنہ منظرنامہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ آپریشن ہو سکتا ہے۔
دریں اثنا، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن ایرانی جوہری پروگرام کے لیے سفارتی حل تلاش کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" میں آج جمعہ کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا "میرا خیال ہے کہ ہم سب سفارتی راستے کو ترجیح دیتے ہیں"۔ تاہم انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ واشنگٹن انتظامیہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ "اس سب کا انحصار اس بات پر ہے کہ ایرانی کیا کریں گے اور کیا کہیں گے"۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ماضی میں امریکہ کی جانب سے کی جانے والی بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ "میرا خیال ہے کہ ہمیں ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے بچنے کی ضرورت ہے"۔
واضح رہے کہ دو دن قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی بحریہ کا ایک "بڑا بیڑا" مشرق وسطیٰ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تہران مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ایک "عادلانہ اور منصفانہ" معاہدہ کرے گا، جس کا مطلب "ایٹمی ہتھیاروں سے مکمل دستبرداری" ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے 19 فروری کو انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے ایران کو معاہدے تک پہنچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ 15 دن کی مہلت دی ہے۔