جوہری مذاکرات کے دھوکے کے ذریعے ... ایران کے خلاف جون کا منظرنامہ دہرایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایسا لگتا ہے کہ گذشتہ سال جون کا منظرنامہ آج دوبارہ دہرایا گیا ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک وسیع آپریشن کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔

گذشتہ سال امریکی جانب کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کے چھٹے دور کے لیے ایرانی وفد کی روانگی سے قبل، تل ابیب نے جون میں ایران پر اچانک 12 روزہ جنگ مسلط کر دی تھی، جس میں امریکہ نے ایرانی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنا کر شرکت کی تھی۔

آج ویانا میں امریکی اور ایرانی تکنیکی کمیٹیوں کے درمیان متوقع ملاقاتوں سے 48 گھنٹے قبل اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے 2 اور 3 مارچ کو اسرائیل کے دورے سے پہلے امریکہ اور اسرائیل نے تہران کے خلاف مشترکہ فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ مارکو روبیو کا یہ دورہ جنیوا میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد ایرانی معاملے پر تبادلہ خیال کے لیے طے تھا۔

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے آج ہفتہ کی صبح اچانک ایران کے خلاف "پیشگی حملے" کے آغاز کا اعلان کیا۔

اسرائیلی وزارت دفاع کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ اس آپریشن کی منصوبہ بندی واشنگٹن کے ساتھ مل کر مہینوں سے کی جا رہی تھی اور اس کے آغاز کا وقت ہفتوں پہلے طے کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف ایک وسیع اور مسلسل فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے ایرانی میزائل پروگرام کے ساتھ ساتھ بحری بیڑے کو بھی مٹانے کا عہد کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک "اس بات پر کام کرے گا کہ تہران اب ایٹمی خطرہ نہ رہے۔"

یہ آپریشن امریکی صدر کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کی پیش رفت پر عدم اطمینان کے اظہار کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان عمانی ثالثی میں بات چیت جاری تھی۔

یہ حملہ امریکہ اور اسرائیل کی ان بارہا تنبیہات کے بعد ہوا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اگر ایران نے اپنے ایٹمی اور بیلسٹک میزائل پروگرام جاری رکھے تو وہ ایک اور حملہ کریں گے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان ایٹمی مذاکرات کے 3 بالواسطہ دور ہو چکے تھے، جبکہ توقع تھی کہ دونوں ممالک کے تکنیکی وفود پیر کے روز بین الاقوامی ایٹمی توانائی یجنسی کی شرکت کے ساتھ دوبارہ ملاقات کریں گے، جس کے بعد اگلی ملاقات جمعہ کو ہونا تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں