ایران کے خلاف اسرائیلی امریکی فوجی آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای خود کو ایک بڑے چیلنج کے سامنے کھڑا پا رہے ہیں۔ خامنہ ای جنہیں موجودہ جمہوریہ کے قیام کا باعث بننے والے انقلاب کے اہم ستونوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے انہوں نے برسوں تک سٹریٹجک اور سکیورٹی کے داؤ پیچ کے امتزاج سے کئی بحرانوں کا مقابلہ کیا لیکن آج انہیں سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حملے کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کرنا اور حکمران نظام کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے ایرانیوں سے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی اپیل بھی کی ہے۔
86 سالہ خامنہ ای روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد 1989ء میں سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ساڑھے تین دہائیوں سے ایران پر حکمرانی کر رہے ہیں۔
وہ 1999ء میں طلبہ کے مظاہروں 2009ء میں متنازع صدارتی انتخابات کے بعد پھوٹنے والے عوامی احتجاج، 2019ء کے مظاہروں جنہیں تیزی سے کچل دیا گیا اور مہسا امینی کی حراست کے دوران موت کے بعد لباس کے سخت قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں 2022ء تا 2023ء کے دوران ہونے والی "خواتین، زندگی، آزادی" تحریک جیسے بحرانوں پر قابو پانے میں کامیاب رہے ہیں۔
خامنہ ای کو گذشتہ جون کے مہینے میں اسرائیل کے ساتھ بارہ روزہ جنگ کے دوران بھی روپوش ہونا پڑا تھا جس نے ایران میں گہری اسرائیلی انٹیلی جنس دراندازی کو بے نقاب کیا اور فضائی حملوں میں اہم سکیورٹی حکام کی ہلاکت کا باعث بنی۔
جون کی جنگ سے بچ نکلے
تاہم وہ اس وقت جنگ سے بچ نکلے تھے۔ دسمبر کے آخر میں احتجاج شروع ہونے پر انہوں نے بعض مظاہرین کو امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ "چند تخریب کار" قرار دے کر ان کی مذمت کی۔
لیکن ساتھ ہی انہوں نے ملک کے مشکل حالات اور حکومت سے بہتر زندگی کے حالات کے ان کے حق کا اعتراف بھی کیا۔
گرفت کمزور پڑ گئی
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ گذشتہ برسوں کے دوران ملک کو درپیش بحرانوں کی وجہ سے خامنہ ای کی اقتدار پر گرفت کمزور پڑ گئی ہے۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ نے اس سال اپنی رپورٹ میں کہا کہ خامنہ کے دور میں نظام کو بار بار عوامی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا اور اسے بار بار آہنی ہاتھوں سے کچل دیا گیا اور اسی سختی کے ساتھ حکمرانی جاری رکھی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس طریقہ کار نے انہیں کچھ وقت تو دیا لیکن کامیابی جس کا اندازہ صرف زبردستی اقتدار برقرار رکھنے سے لگایا گیا، ملک کے رہنماؤں کو عوامی بے اطمینانی کے پیچھے چھپی شکایات کو دور کرنے کی ترغیب نہیں دے سکی۔
سخت سکیورٹی
فی الحال خامنہ ای سخت سکیورٹی میں رہ رہے ہیں۔ ان کی عوامی نمائش کا اعلان شاذ و نادر ہی پہلے کیا جاتا ہے۔ جون 2025ء کی جنگ کے بعد سے ان کی براہ راست نشریات میں بھی کمی آئی ہے۔
سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے خامنہ ای نے ملک سے باہر دورے نہیں کیے ہیں جو کہ 1979ء میں فرانس سے تہران واپسی کے بعد خمینی کی ایک روایت تھی جب انقلاب نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
ان کا آخری معلوم غیر ملکی دورہ 1989ء میں صدر کی حیثیت سے شمالی کوریا کا سرکاری دورہ تھا جہاں انہوں نے پیانگ یانگ میں اپنے ہم منصب کم ال سنگ سے ملاقات کی تھی۔
ان کی عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے ان کی صحت کے بارے میں طویل عرصے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں لیکن انہوں نے گذشتہ ہفتے اپنی ظاہری شکل کے دوران ثابت قدمی اور واضح طور پر بات کی۔
واضح رہے کہ خامنہ ای اپنا دایاں ہاتھ کبھی نہیں ہلاتے جو کہ 1981ء میں قاتلانہ حملے کی کوشش کے بعد مفلوج ہو گیا تھا، حکام نے اس حملے کی ذمہ داری مجاہدین خلق تنظیم پر عائد کی تھی جو انقلاب میں اتحادی سے ملک میں ممنوعہ گروہ بن گئی تھی۔
خامنہ ای کو شاہ کے دور میں ان کی تبلیغی سرگرمیوں کی وجہ سے بار بار گرفتار کیا گیا، پھر وہ انقلاب کی کامیابی کے فورا بعد تہران میں نماز جمعہ کے امام بنے۔
انہوں نے ایران عراق جنگ کے دوران فرنٹ لائنز پر بھی خدمات انجام دیں۔
وہ 1981ء میں اپنے پیشرو محمد علی رجائی کے ایک اور حملے میں قتل کے بعد صدر منتخب ہوئے، اس حملے کی ذمہ داری بھی مجاہدین خلق تنظیم پر عائد کی گئی تھی۔
سنہ 1980ء کی دہائی میں آیت اللہ حسین منتظری کو خمینی کا سب سے ممکنہ جانشین سمجھا جاتا تھا لیکن خمینی نے اپنی وفات سے کچھ دیر پہلے اپنا فیصلہ تبدیل کر دیا جب منتظری نے مجاہدین خلق تنظیم کے ارکان اور دیگر مخالفین کی اجتماعی پھانسیوں پر اعتراض کیا تھا۔
جب خمینی کا انتقال ہوا تو اکبر ہاشمی رفسنجانی کی سربراہی میں مجلس خبرگان" کا اجلاس ہوا اور اس کے ارکان نے خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کیا۔
تاہم خامنہ نے شروع میں نامزدگی کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "میں اہل نہیں ہوں" لیکن کونسل کے ارکان ان کی نامزدگی کو مکمل کرنے کے لیے صف آراء ہو گئے۔
رفسنجانی جن کا انتقال 2017ء میں ہوا نے خامنہ کے بعد صدر کا عہدہ سنبھالا حالانکہ انہیں اپنے آخری سالوں میں ایک سیاسی حریف کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
6 صدور کے ساتھ کام کیا
خامنہ نے اب تک چھ صدور کے ساتھ کام کیا ہے، یہ عہدہ سپریم لیڈر کے عہدے سے کہیں کم بااثر ہے، جن میں محمد خاتمی جیسے معتدل رہنما بھی شامل ہیں جنہوں نے محتاط اصلاحات اور مغرب کے ساتھ قربت کی کوشش کی تھی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ موجودہ سپریم لیڈر کے چھ بیٹے ہیں لیکن مجتبیٰ جنہیں امریکہ نے 2019ء میں پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا، نمایاں مقام رکھتے ہیں اور انہیں ایران میں سب سے زیادہ بااثر شخصیات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
-
امریکی-اسرائیلی حملوں کے درمیان ایران میں انٹرنیٹ تک رسائی منقطع: مانیٹر
نگراں ادارے نیٹ بلاکس نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز جب اسرائیل اور امریکہ نے اسلامی ...
مشرق وسطی -
امریکی واسرائیلی حملے کے آغاز پر ایران کی فضائی حدود بند
ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نے انکشاف کیا ہے کہ آج ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل ...
بين الاقوامى -
اسرائیل کا جنوبی لبنان پر فضائی حملہ، حزب اللہ کے اہداف تباہ
اسرائیل نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں دوبارہ فضائی کارروائیاں کی ہیں، جن میں ...
مشرق وسطی