خامنہ ای، پاکپور اور شمخانی کی ہلاکت کے بعد ایران میں عبوری مرحلے کی تفصیلات سامنے آگئیں

صدر پزیشکیان سمیت تین ایرانی حکام عبوری مرحلے کی نگرانی کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایران میں عبوری مرحلے کے کچھ خدوخال اتوار کے روز واضح ہو کر سامنے آئے ہیں، جبکہ تہران نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے بے مثال حملے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ ایران نے اس حملے کے جواب میں اسرائیل اور کئی عرب ممالک کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ پاسداران انقلاب نے اس کے ذمہ داروں کو "سخت سزا" دینے کی دھمکی دی ہے۔ ایران نے پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی کی ہلاکت کا بھی اعلان کیا ہے۔

عدلیہ سے وابستہ ویب سائٹ "میزان آن لائن" نے اطلاع دی ہے کہ محمد پاکپور جنہوں نے گذشتہ سال جون سنہ 2025 میں 12 روزہ جنگ کے دوران پاسداران انقلاب کی قیادت سنبھالی تھی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ علی شمخانی جو ایران کے سینیئر سکیورٹی حکام میں سے ایک تھے، ہفتے کے روز تہران پر اسرائیلی و امریکی حملوں میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق علی خامنہ ای کے مشیروں میں سے ایک محمد مخبر نے اتوار کو اعلان کیا کہ سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد صدر مسعود پزیشکیان سمیت تین ایرانی حکام ایران میں عبوری مرحلے کی نگرانی کریں گے۔ محمد مخبر نے بتایا کہ اس تین رکنی کمیٹی میں مسعود پزیشکیان، سربراہ عدلیہ غلام حسین محسنی ایجئی اور شوریٰ نگہبان کا ایک نمائندہ شامل ہوگا۔

ملک میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل ایرانی میڈیا نے خامنہ ای کے خاندان کے افراد کی ہلاکت کی بھی اطلاع دی تھی۔

امریکی صدر نے اپنے سوشل نیٹ ورک 'ٹروتھ سوشل' پر کہا کہ "تاریخ کی بدترین شخصیات میں سے ایک، خامنہ ای مارا گیا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام کے پاس اپنے ملک کا کنٹرول واپس حاصل کرنے کا یہ "عظیم ترین" موقع ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل نیٹ ورک 'ٹروتھ سوشل' پر لکھاکہ "ملک بڑے پیمانے پر تباہ ہو چکا ہے، بلکہ صرف ایک دن میں مٹ چکا ہے۔ اس کے باوجود شدید اور درست بمباری پورا ہفتہ یا مقصد حاصل کرنے تک جتنی ضرورت ہوئی، بلا تعطل جاری رہے گی"۔

اسرائیل نے ہفتے کی صبح ایران پر حملے کے آغاز کا اعلان کیا تھا جسے اس نے "شیر کی دہاڑ" کا نام دیا۔ پھر واشنگٹن نے اعلان کیا کہ یہ اسرائیل کے ساتھ ایک مشترکہ بڑے پیمانے کی کارروائی ہے ۔ اس کا مقصد ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔ ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور خلیجی ممالک، جہاں کئی امریکی اڈے موجود ہیں، نیز عراق اور اردن کی طرف میزائلوں کے غول داغے۔

امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ اس حملے کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں کو تباہ کرنا، نظام حکومت کا خاتمہ اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے "سراسر خطرہ" بننے والی دھمکیوں کو مٹانا ہے۔

یہ آپریشن سنہ 2003ء میں عراق پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن ہے، جس کے لیے واشنگٹن نے خطے میں بڑے پیمانے پر بحری اور فضائی افواج کو متحرک کر کے تیاریاں کی تھیں۔

تہران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور عرب ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل داغے اور انہیں "جائز اہداف" قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں