دبئی میں انسانی ساختہ منفرد قسم کے جزیرے میں دھماکے بعد دھواں اٹھتا نظر آیا ہے۔ اس جزیرے کو شاندار اور بلندو بالا عمارات سے مزین کر کے جدید اور پر تعیش رہائش کا مرکز بنایا گیا ہے۔ تاہم ایران کی طرف سے داغے گئے میزائل سے یہ بھی نشانہ بنا ہے۔
دبئی حکام کے مطابق اس انسانی ساختہ جزیرے پام میں اب تک چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ایران نے یہ میزائل حملہ اسرائیل اور امریکہ کے 28 فروری کی صبح شروع کی گئی جنگ کے بعد اپنے پہلے سے اعلان کے مطابق کیے ہیں کہ ان تمام ریاستوں کو بھی نشانہ بنائے گا۔
ایران کے یہ میزائل دبئی کے علاوہ قطر، کویت اور بحرین وغیرہ میں بھی داغے گئے ہیں اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانے پر رکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ جس ریاست میں بھی امریکی فوجی اڈے اس علاقے میں قائم ہیں یہ سب امریکہ کے سہولت کار ہیں۔
ایرانی میزائل حملے کی دبئی میڈیا نے بھی تصدیق کر دی ہے۔ میزائل دھماکے کے بعد علاقے میں دھویں کے بادل نظرآتے رہے۔ دبئی حکام نے چار افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔ دبئی کے سرکاری میڈیا دفتر نے بھی اس واقعے کی اطلاع دی ہے۔
حکام کے مطابق اس واقعے کے فوری بعد ریسکیو ٹیموں نے اپنی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آگ کو پھیلنے سے روکنے اور زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے کا اہتمام کر لیا گیا ہے۔
ریسکیو ٹیموں کے بیان کے مطابق میزائل پھٹنے سے لگنے والی آگ کو کنٹرول کر لیا گیا ہے۔ اس لیے اب علاقے میں مزید کسی نقصان کا اندیشہ نہیں ہے۔ تاہم بتایا گیا ہے کہ اس پر تعیش علاقے میں میزائل گرنے سے علاقے کے مکینوں میں کافی خوف ہراس پایا گیا۔ دبئی خلیجی ریاست کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہے ۔ جہاں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے کاروباری اپنے کاروبار کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ لیکن ایرانی میزائل حملے نے ان کے اس اعتماد کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔