ایرانی حملوں کے بعد سعودی عرب کے چوبیس گھنٹے حفاظتی اقدامات
سعودی محقق نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب کے موقف سمجھ داری پر مبنی اور حقیقت پسندانہ ہیں
ایران کی جانب سے ریاض سمیت خلیجی دارالحکومتوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سعودی عرب کو اپنی سکیورٹی اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر وسیع عالمی حمایت اور یکجہتی حاصل ہوئی ہے۔ سعودی عرب نے ان حملوں کو "بزدلانہ" قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ملک، شہریوں اور مقیم افراد کے دفاع کے لیے جوابی کارروائی سمیت تمام ضروری اقدامات کا حق رکھتا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ان "سفاکانہ اور بزدلانہ" ایرانی حملوں کے باوجود دارالحکومت ریاض اور مشرقی صوبے میں امن و امان اور حالات مکمل طور پر معمول کے مطابق ہیں۔ سعودی دفاعی قوتوں نے ان حملوں کو ناکام بنا کر مملکت کے مفادات اور زمین کا تحفظ یقینی بنایا ہے۔ ان ضربوں سے ملک کی زمین یا فضائی حدود پر کوئی اثر نہیں پڑا اور نہ مقامی منڈیوں میں کوئی خوف و ہراس پھیلا ہے، کیونکہ سعودی عرب میں بنیادی اشیاء کی فراہمی اور سپلائی چین مکمل طور پر محفوظ ہے۔
سعودی فضائی دفاعی نظام نے ریاض اور مشرقی صوبے کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کو کامیابی سے گرا کر اپنی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور خطرات سے فوری نمٹنے کی صلاحیت کا ثبوت دیا ہے۔ ردعمل کے طور پر ریاض نے تہران کے سفیر کو طلب کر کے سعودی عرب اور خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں پر شدید احتجاج اور مذمت ریکارڈ کرائی ہے۔ مملکت نے واضح کیا ہے کہ خطے کے امن کو تباہ کرنے والی ایسی کارروائیاں ناقابل قبول ہیں۔
سعودی عرب اپنی تمام تر توجہ شہریوں اور مقیم افراد کی سلامتی پر مرکوز کیے ہوئے ہے اور تمام معاملات کو طے شدہ منصوبوں کے مطابق دیکھ رہا ہے۔ اسی تناظر میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد کے مشورے پر سعودی ہوائی اڈوں پر پھنسے ہوئے تمام خلیجی شہریوں کی میزبانی کی منظوری دی ہے۔
ملک بھر میں تمام سرکاری تنصیبات اور خدمات بخوبی کام کر رہی ہیں اور روزمرہ زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔ سیاسی تجزیہ نگار عبداللہ بن بجاد العتیبی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب جنگ میں گھسیٹے جانے کے بجائے سمجھ داری اور سیاسی حقیقت پسندی پر مبنی مضبوط اور ٹھوس موقف اپنائے ہوئے ہے، جس میں شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے پاس ان حملوں کا جواب دینے کے وسیع اختیارات موجود ہیں اور ایران کے جھوٹے جواز اب کارگر نہیں ہوں گے۔
سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ ان حملوں کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر جب مملکت پہلے ہی یہ یقین دہانی کرا چکی تھی کہ وہ اپنی زمین یا فضا کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔