اتوار کی شام مصر اور دیگر عرب ممالک کے آسمان پر ایک نایاب فلکیاتی مظہر دیکھنے کو ملے گا، جب زہرہ اور زحل بظاہر قریب دکھائی دیں گے۔
یہ دونوں سیارے غروب آفتاب کے بعد مغربی افق کے اوپر نظر آئیں گے اور صاف آسمان کی صورت میں آنکھ سے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
جدہ کی فلکیاتی سوسائٹی کے مطابق دونوں سیاروں کے درمیان زاویائی فاصلہ تقریباً ایک ڈگری ہے، جو چاند کے ظاہری قطر کے تقریباً دوگنا کے برابر ہے۔
زہرہ اپنی تیز روشنی کی وجہ سے نمایاں ہوگا جبکہ زحل کا رنگ پیلا سنہری اور نسبتاً مدھم نظر آئے گا۔
سوسائٹی کے صدر مہندس ماجد ابو زاہرہ کے مطابق یہ ملاپ صرف بظاہر کا قریب ہونا ہے اور دونوں سیارے خلا میں حقیقت میں ایک دوسرے سے لاکھوں کلومیٹر دور ہیں۔
زہرہ سورج کے گرد 225 دنوں میں گردش مکمل کرتا ہے جبکہ زحل کو ایک مکمل چکر کے لیے تقریباً 29اعشاریہ5 سال درکار ہیں۔
یہ قریبی ملاپ عرب دنیا کے کسی بھی مقام سے دیکھا جا سکتا ہے اور بہترین مشاہدہ غروب آفتاب کے 20 سے 40 منٹ بعد کیا جا سکتا ہے، جب آسمان کی روشنی مدھم ہونا شروع ہو۔ صاف افق، کم دھول یا نمی اور کم روشنی والے مقامات مشاہدے کے لیے بہترین ہیں، جیسے ساحلی علاقے، صحرائی زمین یا پہاڑی علاقے۔
مشاہدہ اور فلکیاتی فوٹوگرافی:یہ ملاپ آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔دوربین استعمال کرنے سے دونوں سیارے ایک فریم میں آسانی سے نظر آئیں گے۔
فلکیاتی فوٹوگرافی کے لیے تین ٹانگوں والا کیمرا اسٹینڈ، درمیانی فوکل لینس اور مختصر ایکسپوژر استعمال کرنا مناسب ہے۔
یہ قریبی ملاپ زمین پر کوئی فزیکل اثر نہیں ڈالے گا بلکہ یہ صرف زاویائی قریبی منظر ہے اور سیاروں کی حرکت اور ان کے مدار کی پیچیدگی کو سمجھنے کے لیے ایک بہترین تعلیمی موقع فراہم کرتا ہے۔
-
مصر: سفارت کاروں کی موجودگی میں ’’ المطریہ دسترخوان ‘‘ سیاحتی روایت میں بدل گیا
جرمن خاتون سفارت کار نے سبزی کی ڈش ’’ محشی‘‘ بنانا سیکھ کر مصریوں کی توجہ حاصل کر ...
بين الاقوامى -
برطانیہ کی تارکین وطن کو واپسی کے عوض ہزاروں ڈالرز کی پیشکش
رضاکارانہ واپسی کے لیے فی شخص 10 ہزار پاؤنڈ تک کی مالی امداد کا پائلٹ پروگرام ...
بين الاقوامى -
پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانا روک دیں گے، ما سوا یہ کہ وہاں سے ہم پر حملے ہوں: پزشکیان
پڑوسی ممالک سے معذرت کرتا ہوں ، خطے کے ممالک کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں : ایرانی صدر
بين الاقوامى