متحدہ عرب امارات میں پبلک پراسیکیوشن نے 10 مختلف قومیتوں کے افراد کی گرفتاری کا حکم دیا، جن میں ایک مصری شہری بھی شامل ہے، کیونکہ انہوں نے سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور جھوٹی ویڈیوز شیئر کیں۔
نیب کے مطابق گرفتار شدگان نے حقیقی مناظر والی ویڈیوز پوسٹ کیں،جن کا ایئر ڈیفنس کے حملوں کا ردعمل، مارکرز یا زمین پر گرنے والے میزائلز اور لوگوں کے اجتماع سے تعلق تھا ۔
اس کے علاوہ انہوں نے AI کے ذریعے بنائی گئی جعلی ویڈیوز شیئر کیں، جو ہوائی یا زمینی حملوں، دھماکوں، مشہور مقامات پر حملے یا وسیع آگ دکھاتی تھیں، جو حقیقت کے برعکس تھیں۔
یہ اقدامات حقائق کو مسخ کرنے اور عوام میں انتشار پیدا کرنے کی کوششوں کے خلاف کیے گئے، جیسا کہ وام (Emirates News Agency) نے رپورٹ کیا۔
⭕ أمرت النيابة العامة في الإمارات بالقبض على 10 متهمين من جنسيات مختلفة بينهم مصري، لنشرهم مقاطع مصورة ومحتوى مضللاً عبر وسائل التواصل الاجتماعي، بحسب وكالة أنباء الإمارات (وأم).
— العربية مصر (@AlArabiya_EGY) March 14, 2026
🔴 ذكرت النيابة أن المتهمين نشروا مقاطع حقيقية لتصدي الدفاعات الجوية للهجمات، وأخرى مصطنعة… pic.twitter.com/YtRrIH7re0
غیر حقیقی سیکیورٹی واقعات
متحدہ عرب امارات کی پبلک پراسیکیوشن نے بتایا کہ گرفتار شدگان نے بچوں کے جذبات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ویڈیوز بنائیں جو غیر حقیقی سیکیورٹی واقعات، فوجی تنصیبات کے تباہ ہونے یا دھماکوں کا تاثر دیتی تھیں۔
کچھ ویڈیوز بیرون ملک کے مناظر کو ملک کے اندر پیش کیے جانے کے طور پر دکھاتی تھیں، جس سے عوام میں خوف و اضطراب اور انتشار پیدا ہوتا تھا۔
نیب کے مطابق حقیقی یا جعلی ویڈیوز عوامی امن پر اثر ڈال سکتی ہیں، افواہیں پھیلا سکتی ہیںاور دشمن میڈیا کے لیے مواد فراہم کر سکتی ہیں، جو سیکیورٹی اور دفاعی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
اس طرح کے کام قانون کے تحت جرم شمار ہوتے ہیں اور سزا میں کم از کم ایک سال قید اور 100000 درہم جرمانہ شامل ہے۔
نیب نے خبردار کیا کہ:ہر شخص جو آن لائن یا جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے غلط یا جعلی معلومات پھیلاتا ہے، فوری قانونی کارروائی کا سامنا کرے گا۔
متعلقہ حکام ان سرگرمیوں کی نگرانی جاری رکھیں گے اور سخت اقدامات کریں گے۔
پس منظر:ایران اور امریکہ/اسرائیل کے درمیان تناؤ کے بعد ایرانی افواج نے خلیج کے ممالک کی جانب سیکڑوں میزائل اور ڈرونز بھیجے۔
اگرچہ ایران نے دعویٰ کیا کہ امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، کئی حملے شہری عمارتوں کو بھی پہنچے۔
بعض شماریات کے مطابق ایران نے 2000 سے زائد میزائل اور ڈرونز خلیج کے ممالک پر داغے، لیکن زیادہ تر دفاعی نظاموں نے انہیں ناکام بنایا۔