اسرائیل اور ایران کے درمیان میزائلوں اور ڈرونز سے شدید بمباری کا تبادلہ

ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں دو اسرائیلیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایران میں جاری جنگ کے تیسرے ہفتے میں داخل ہوتے ہی ایرانی فوج نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے اسرائیل میں پولیس کے ایک اہم یونٹ اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن سینٹر سمیت کئی اہداف پر ڈرون حملے کیے ہیں۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج نے صہیونی ریاست کے سکیورٹی مراکز اور پولیس ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا ہے جن میں ’لاہو 433‘ نامی خصوصی پولیس یونٹ (جو امریکی ایف بی آئی کے مماثل ہے) اور ایک سپیس کمیونیکیشن سینٹر شامل ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ اس نے مغربی ایران میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کا آغاز کر دیا ہے جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل کی طرف میزائل داغے ہیں۔

عسکری نقصانات اور زمینی صورتحال

ایک اسرائیلی عہدیدار نے امریکی چینل ’فاکس نیوز‘ کو بتایا کہ پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے فضائی بیڑے پر حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بندر عباس پر اسرائیلی حملوں میں بحریہ کے ایک کمانڈر غلام رضا محمد زادہ مارے گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ایلات کی جانب داغے گئے ایرانی میزائلوں کا سراغ لگا کر انہیں فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ نامہ نگار کے مطابق تل ابیب اور ایلات سمیت جنوبی اسرائیل میں خطرے کے سائرن بجائے گئےہیں۔

اسرائیلی ویب سائٹ ’وائی نیٹ‘ کے مطابق شمالی اسرائیل کی جانب 10 میزائل داغے گئے جن میں سے کچھ کو دفاعی نظام نے تباہ کر دیا جبکہ باقی کھلے میدانوں میں گرے۔نیوز ایجنسی ’ٹاس‘ کے مطابق ایرانی میزائل حملے میں دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اسی دوران پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کا ’پیچھا کرنے اور انہیں قتل کرنے‘ کا عہد کیا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ ابھی جنگ بندی کے کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں کیونکہ پیش کردہ شرائط کافی نہیں ہیں۔

جوہری پروگرام پر امریکی موقف

پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ حملوں میں اسرائیل اور امریکی مفادات کے خلاف 10 بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ نامہ نگار کے مطابق لبنان سے بھی حیفہ اور شمالی اسرائیل کی جانب میزائل داغے گئے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’این بی سی نیوز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی مستقبل کے معاہدے کے لیے ایران کو اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔

فیلڈ مانیٹرنگ اور فضائی مہم

ایرانی میڈیا نے اتوار کی صبح وسطی ایران کے شہر اصفہان میں پیرا ٹروپرز کی ایک بیس اور دیگر مقامات پر امریکی و اسرائیلی بمباری کی اطلاع دی ہے۔ یلغار کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آدھی رات سے اب تک ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائلوں کے 5 گروپس داغے جا چکے ہیں جبکہ یدیعوت احرونوت کے مطابق لبنان سے بھی 10 میزائل فائر کیے گئے۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ انہوں نے تل ابیب کے صنعتی سیکٹرز اور خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی دفاعی صلاحیت میں کمی

امریکی حکام نے ویب سائٹ ’سیمافور‘ کو بتایا ہے کہ اسرائیل نے واشنگٹن کو اپنے دفاعی میزائلوں کی شدید کمی سے آگاہ کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اسرائیل گذشتہ سال جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد سے ہی ان میزائلوں کی قلت کا شکار تھا۔ اس سے قبل ’سی این این‘ نے رپورٹ دی تھی کہ ایران اپنے میزائلوں میں کلسٹر ایمونیشن (ذخیرہ گولہ بارود) شامل کر رہا ہے جس سے اسرائیلی دفاعی ذخیرہ جلد ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ دریں اثنا امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران میں رات گئے کی جانے والی کارروائیوں میں بی 52 بمبار طیاروں کی شرکت کی ویڈیو جاری کی ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں عہد کیا کہ تہران جنگی تباہی کے اثرات پر قابو پا کر ملک کو پہلے سے بہتر تعمیر کرے گا۔ یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری سنہ 2026ء کی تاریخ کو ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیا تھا جس میں اب تک سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت ایران کے کئی صف اول کے رہنما مارے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں