سال 1967 کے بعد پہلی بار... اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کو مسلسل 17 روز سے بند کر رکھا ہے

اسرائیلی قابض افواج نے مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی اور اعتکاف پر پابندی لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

اسرائیلی حکام نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے منسلک سکیورٹی حالات کا بہانہ بنا کر بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کو مسلسل 17 ویں روز بھی بند کر رکھا ہے اور نمازیوں کو وہاں پہنچنے سے روک دیا ہے۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی (وفا) نے پیر کے روز بتایا کہ "1967 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیلی قبضے نے نمازیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی اور اعتکاف سے روک دیا ہے، جس کے باعث رمضان مبارک کے آخری جمعہ کو بھی نمازی وہاں موجود نہیں تھے"۔

بیت المقدس ضلع کی بندش کے ان اقدامات کے تسلسل کے دوران نام نہاد "ہیکل سلیمانی تنظیموں" کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے خلاف اشتعال انگیز بیان بازی میں خطرناک حد تک اضافے پر خبردار کیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ "جو کچھ ہو رہا ہے اسے قابض حکام کے دعوؤں کے مطابق عارضی سکیورٹی اقدامات قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ اس سیاسی اور نظریاتی راستے کا حصہ ہے جس کا مقصد مبارک مسجد کی موجودہ مذہبی، تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں