اسرائیلی فوج نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف "مخصوص زمینی کارروائی" کا آغاز کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ڈویژن 91 کی فورسز نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان کے اہم مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے اپنی دفاعی پٹی کو وسعت دینے کے لیے آپریشن شروع کیا ہے، جس میں حزب اللہ کے ڈھانچے کی تباہی اور وہاں موجود عناصر کا خاتمہ شامل ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق حکومت 4 لاکھ 50 ہزار اضافی فوجیوں کو حرکت میں لانے کے لیے منظوری مانگنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ سفارش فوج اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے شمالی محاذ پر انتہائی درجے کی تیاری یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہے۔
الجيش الإسرائيلي ينشر فيديو قال إنه لقوات الفرقة 91 وهي تبدأ نشاطا بريا محدودا في جنوب لبنان لتوسيع نطاق منطقة الدفاع الأمامي
— ا لـحـدث (@AlHadath) March 16, 2026
قناة الحدث pic.twitter.com/s20tbXWL2A
مزید برآں، اسرائیل امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر جنوبی لبنان میں "بفر زون" (غیر فوجی علاقہ) کو وسعت دینے کی تجویز پر بھی غور کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو نے فوج کو لبنان میں ممکنہ شہری اہداف کی فہرست تیار کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ لبنانی حکومت پر حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
الجيش الإسرائيلي: الفرقة 91 بدأت توسيع نطاق توغلها بجنوب لبنان pic.twitter.com/b9nVRJOvc4
— العربية (@AlArabiya) March 16, 2026
لبنانی وزارت صحت کے مطابق صور اور مرجعیون پر اسرائیلی حملوں میں پانچ افراد جاں بحق اور سات زخمی ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ 2 مارچ کو حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل پر میزائل حملوں کے بعد شروع ہونے والی اس حالیہ کشیدگی میں اب تک لبنان میں 850 افراد ہلاک ہوہ چکے ہیں، جن میں 107 بچے اور 66 خواتین شامل ہیں۔ ان کے علاوہ زخمیوں کی تعداد 2026 تک پہنچ گئی ہے۔ اسرائیل نے اتوار کی شب بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ پر بھی نئے حملے کیے، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں آبادی بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہے۔
سیاسی محاذ پر اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے لبنان کے ساتھ 2022 میں ہونے والے سمندری حدود کی حد بندی کے معاہدے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب وزیر خارجہ جدعون ساعر نے لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ اگرچہ لبنانی صدر جوزف عون اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکروں نے براہ راست مذاکرات کی تجویز دی تھی، تاہم اسرائیل کی جانب سے اس کا کوئی مثبت جواب سامنے نہیں آیا۔